انوارالعلوم (جلد 16) — Page 518
۴۵ نظام تو انوار العلوم جلد ۱۶ نہیں کرتی۔پھر یہودیت کی تعلیم میں ایک اور بات یہ پائی جاتی ہے کہ وہ غیر قوموں کے ساتھ بہت سخت سلوک کرنے کا حکم دیتی ہے۔چنانچہ توریت میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ :- ” جب تو کسی شہر کے پاس اس سے لڑنے کے لئے آپہنچے تو پہلے اس سے صلح کا پیغام کرتب یوں ہوگا کہ اگر وہ تجھے جواب دے کہ صلح منظور اور دروازہ تیرے لئے کھول دے تو ساری خلق جو اُس شہر میں پائی جاوے تیری خراج گزار ہوگی اور تیری خدمت کرے گی۔اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے جنگ کرے تو تو اُس کا محاصرہ کر۔اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضہ میں کر دیوے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر مگر عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اُس شہر میں ہو اُس کا سارا لوٹ اپنے لئے لے۔اور تو اپنے دشمنوں کی اس ٹوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھے دی ہے کھا ئیو۔اسی طرح سے تو ان سب شہروں سے 66 جو تجھ سے بہت دور ہیں اور ان قوموں کے شہروں میں سے نہیں ہیں، کیجیو۔یہ تو غیر ملکوں کے متعلق حکم ہے کنعان کی سر زمین جو موعود سر زمین تھی اس کے متعلق یہ حکم نہیں بلکہ وہاں کے متعلق یہ حکم ہے کہ :- اُن قوموں کے شہروں میں جنہیں خداوند تیرا خدا تیری میراث کر دیتا 66 ہے۔کسی چیز کو جو سانس لیتی ہے جیتا نہ چھوڑ یو بلکہ تُو اُن کو حرام کیجیو۔“ یہ نظام ہے جو یہودیت پیش کرتی ہے۔اگر یہودیت برسراقتدار آ جائے تو ہر مرد مارا جائے گا، ہر عورت اور بچے کو غلام بنایا جائے گا اور کنعان میں بسنے والے عیسائی مرد اور عورتیں اور بچے تو کیا وہاں کے گھوڑے اور گدھے اور کتے اور پلیاں اور سانپ اور چھپکلی سب مارے جائیں گے کیونکہ حکم یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو سانس لیتی ہو اس کو جان سے مار دیا جائے۔اس نظام کے ماتحت یہودیوں کو تھوڑا بہت آرام میسر ہو تو ہو اور قو میں تو بالکل تباہ ہو جائیں گی۔عیسائیت کا دنیا کے لئے پیغام عیسائیت کا پیغام دنیا کے لئے صرف یہی ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے عجب شریعت لعنت ہے تو پھر اس کا جو بھی پیغام ہے وہ لعنت ہے ، عیسائیت صرف محبت کی تعلیم دیتی ہے جس پر خود عمل نہیں کرتی۔اگر اس کی محبت کی تعلیم پر کوئی عمل کرنے والا ہوتا تو آج یورپ میں لڑائیاں کیوں ہوتیں۔شریعت کو لعنت قرار دے کر دنیا کے لئے کوئی معتین پروگرام پیش کرنا میسحیت کے لئے