انوارالعلوم (جلد 16) — Page 511
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو في الأرضِ یعنی اگر تمہیں توفیق ملے تو تم دُنیا کی سیر کیا کرو تا کہ تمہاری معلومات میں اضافہ ہو اور تمہاری دماغی اور علمی ترقی ہو۔جب کوئی شخص عرب جائے گا تو ایک طرف وہ سمندر کی سیر کا لطف اُٹھائے گا، دوسری طرف وہ اِس سفر میں ایران اور عراق اور دوسرے کئی ملکوں کو دیکھ لے گا اور اس طرح بہت سی مفید معلومات حاصل کرلے گا لیکن اگر سارے ملک کے لوگوں کو ایک جیسے پیسے ملیں ، ایک جیسا نمک اور ایک جیسا مرچ مصالحہ ملے تو وہ غیر ملکوں کی سیر کے لئے کس طرح جا سکتے ہیں۔پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ کوئی مالدار ہوتا تھا اور کوئی غریب۔مالدار سیر کے لئے غیر ممالک میں چلے جاتے تھے لیکن اس تحریک کے بعد جب سب کو ایک معیار پر کھڑا کر دیا جائے گا اور ان کی مالی حالت ایسی ہوگی کہ سب کو صرف گزارہ کے مطابق اخراجات ملیں گے تو وہ غیر ملکوں کی سیاحت کس طرح کریں گے اور جب سیاحت نہیں کریں گے تو علمی ترقی کا یہ دروازہ اُن پر بند ہو جائے گا حالانکہ ترقی کے لئے ضروری ہے کہ کچھ جماعتیں ایسی ہوں جو اپنا فارغ وقت اس کام میں صرف کریں کہ غیر ملکوں میں جائیں ، ہئیر میں کریں اور وہاں کے اچھے خیالات اپنے ملک میں پھیلائیں۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کے کارندے ایسے سفر کر سکتے ہیں مگر یہ ضروری نہیں کہ حکومت کے افراد جو سیاست میں اچھے ہوں وہ سیاحت میں بھی اچھے ہوں۔اگر عام لوگ غیر ملکوں کی سیر کے لئے جائیں تو وکیل اپنے دماغ کی مناسبت کے لحاظ سے کوئی جنس لے آئے گا، ڈاکٹر اپنے دماغ کی مناسبت کے لحاظ سے کوئی جنس لے آئیگا ، انجینئر اپنے دماغ کی مناسبت کے لحاظ سے کوئی جنس لے آئے گا، مصوّر اپنے دماغ کی مناسبت سے کوئی جنس لے آئے گا ، شاعر اپنے دماغ کی مناسبت سے کوئی جنس لے آئے گا ، اسی طرح کوئی مذہبی لیڈر جائے گا تو وہ اپنے دماغ کی مناسبت سے کوئی جنس لے آئے گا لیکن قونصل خانہ کے سیاسی دماغ کیا لائیں گے؟ وہ تو اپنے ماحول میں محدود ہوں گے اور اِس وجہ سے اُن کی نظر بھی نہایت محدود ہوگی وہ تو اگر لائیں گے تو چند چیزیں ہی لائیں گے اور اس طرح ان کی وجہ سے ملک کو وہ فائدہ نہیں پہنچ سکتا جو عام لوگوں کی سیاحت سے پہنچ سکتا ہے۔اگر وہ کہیں کہ حکومت خود اپنے خرچ پر عام لوگوں کو اس غرض کے لئے بھیج سکتی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس طرح پھر تفرقہ پیدا ہو جائے گا اور عدم مساوات کا وہ اصول قائم ہو جائے گا جس کو توڑنے کے لئے یہ تحریک جاری کی گئی تھی اور یہ سوال پیدا ہوگا کہ کیا زید کا دل امریکہ جانے کو چاہتا ہے اور بکر کا دل ۳۸