انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 478 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 478

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو پر فروخت کریں گے اور لینے والے اس قیمت پر بھی لے لیں گے۔ابھی میرے پاس بعض دوست آئے تھے انہوں نے تفسیر کبیر کا ذکر کیا میں نے کہا میرے پاس تو نہیں لیکن فلاں شخص کے پاس ہے اور میں نے سنا ہے کہ وہ دس روپے میں ایک جلد دیتا ہے کہنے لگے دس روپوں کا کیا ہے ہم دے دیں گے۔اگر دوست وقت پر کتاب خرید لیتے تو اس پریشانی سے بچ جاتے مگر اب روپے خرچ کرنے کے باوجو دسب کو یہ کتاب نہیں مل سکتی پس آئندہ جلد کے بارہ میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔خدام الاحمدیہ کی طرف سے شائع کردہ لٹریچر خدام الاحمدیہ نے بھی اس دفعہ کچھ لڑیچر خدام کے لئے چھپوایا ہے اور گو وہ خدام کے لئے ہے لیکن بڑی عمر کے لوگوں کے بھی کام آ سکتا ہے دوستوں کو چاہئے کہ اس لٹریچر کو بھی پڑھیں اور اس سے فائدہ اُٹھا ئیں۔رسالہ "فرقان" رسالہ ”فرقان پیغامیوں کے لئے جاری کیا گیا ہے اور اس وقت تک اس کے جتنے پر چے شائع ہوئے ہیں سوائے ایک کے جو اپنے معیار سے کم تھا اچھے اور مفید مضامین پر مشتمل رہے ہیں اس کی خریداری کی طرف بھی میں دوستوں کو توجہ دلا تا ہوں مگر صرف اپنے لئے نہیں بلکہ اس رنگ میں کہ رسالہ پڑھا اور پھر کسی پیغامی کو دے دیا میری تجویز یہ ہے کہ دو تین سال تک مسلسل پیغامیوں کے مقابلہ میں یہ رسالہ شائع ہوتا رہے۔اس کی قیمت پہلے ایک روپیہ تھی مگر اب ڈیڑھ روپیہ کر دی گئی ہے اور یہ قیمت بھی بہت کم ہے آجکل گرانی کا زمانہ ہے جس میں اتنی قلیل قیمت پر کوئی رسالہ نہیں چل سکتا مگر چونکہ اس کا سب کام آنریری ہوتا ہے ایڈیٹر اور منیجر وغیرہ آنریری طور پر کام کر رہے ہیں اس لئے جس قدر آمد ہوتی ہے وہ رسالہ پر ہی خرچ کر دی جاتی ہے اگر صاحب توفیق دوست اس بارہ میں رسالہ کی مدد کریں تو یقیناً یہ امر ثواب کا موجب ہے اس ذریعہ سے اگر غیر مبائع دوستوں کا کچھ طبقہ جس میں بعض وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں سلسلہ کی خدمت کی ہے واپس آ جائے اور پھر بیعت میں شامل ہو جائے تو یہ امر ہمارے لئے بہت بڑی خوشی کا موجب ہو گا۔تقریر سننے کے متعلق ہدایت آج جو مضمون میں شروع کرنے لگا ہوں اس کے متعلق میرا ارادہ تو یہی ہے کہ جلدی ختم کر دوں مگر میری آواز کسی قدر بیٹھی ہوئی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ رات کو مجھے شدید زکام ہو کر نزلہ سینہ پر گرتا رہا