انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 476

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو وقت میاں بشیر احمد صاحب کو اس غرض کے لئے مقرر کیا کہ وہ اس امر کی تحقیق کر کے مجھے رپورٹ کریں۔ابھی جلسہ گاہ کو آتے وقت مجھے ان کی رپورٹ ملی ہے۔عام طور پر یہ واقعہ اسی رنگ میں مشہور ہورہا تھا بلکہ مجھے وثوق کے ساتھ یہ بتایا گیا تھا کہ وہ مہمان کر تو ضلع شیخو پورہ کے ہیں مگر رپورٹ سے معلوم ہوا کہ یہ بات بالکل غلط ہے وہ جسے مارا گیا ہے قادیان کا ہی ایک لڑکا ہے۔ابھی میں اس واقعہ کی تفصیل بھی بیان نہیں کر سکتا کیونکہ اس لڑکے کا بیان ابھی تک نہیں لیا گیا بہر حال قادیان کا ایک لڑکا تھا جو کسی مہمان کے لئے کھانا لینے آیا یا اپنے گھر والوں کے لئے کھانا لینے آیا کیونکہ بعض کمز ور لوگ جلسہ سالانہ کے دنوں میں اس رنگ میں کچھ فائدہ اُٹھا لیتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اُس نے دوسرے لوگوں کی صفوں کو چیر کر اپنے آپ کو آگے کرنا چاہا جب بعض نے اُسے روکا اور صبر کی تلقین کی کہ اپنی باری پر کھا نا مل جائے گا تو اُس نے گالیاں دیں اور کہا جاتا ہے کہ وہ گندی گالیاں تھیں۔اس پر ناظم صاحب نے اسے چند تھپڑ لگا دیئے تو وہ کہتے ہیں مجھے بحیثیت ناظم ہونے کے اور بحیثیت خدام الاحمدیہ کا زعیم ہونے کے اُس کو تھپڑ مارنے کا حق تھا اور میرے لئے ضروری تھا کہ اُس کے اخلاقی جُرم کی اسے سزا دیتا ان کے نزدیک اس وجہ سے یہ امر نظر انداز کرنے کے قابل ہے۔اس امر کے متعلق تو بعد میں غور کیا جائے گا کہ خدام الاحمدیہ کے قواعد اس قسم کی فوری سزا کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں لیکن اس میں کوئی قبہ نہیں کہ ناظم اس بات کا ذمہ دار ہوتا ہے کہ وہ باہر کے لوگوں کے سامنے قادیان کے لوگوں کا اچھا نمونہ پیش کرے اگر واقعہ میں اس لڑکے نے کوئی مخش گالی دی تھی تو ناظم کی حیثیت سے اُن کا قادیان کے کسی لڑکے کو معمولی سزا دینا جرم نہیں ہوسکتا پس وہ بات جو لوگوں میں پھیل گئی تھی بالکل غلط ہے۔بہر حال اصل واقعہ کی تحقیقات تو بعد میں ہو گی اور جو مناسب کارروائی ہوگی کی جائے گی میں اس وقت اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ایسے معاملات میں باہر کے دوستوں کو بھی احتیاط کرنی چاہئے اور انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ قادیان میں ہمارا نظام خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت زیادہ پختہ ہے۔یہاں خدام الاحمدیہ جہاں تک حکومت ان کو اجازت دیتی ہے نوجوانوں کی آزادی پر تصرف کرتے ہیں، مُجرم سرزد ہونے پر انہیں سزائیں دیتے ہیں ، انہیں معمولی سزا بھی دے لیتے ہیں، پہرے پر مقرر کرتے ہیں ، بوجھ اُٹھواتے ہیں اور اسی طرح کی کئی اور اصلاحی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔باہر سے آنے والوں کو یہ ایک عجیب بات معلوم ہوتی ہے اور جب قادیان کے کسی لڑکے کو کسی مجرم پر