انوارالعلوم (جلد 16) — Page 424
انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ سے خطاب زیادہ نمائش پسند نہیں کرتا کیونکہ اس طرح کئی قسم کی بدیاں پیدا ہو جاتی ہیں لیکن اسلام یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی ننگے بدن پھرنے لگ جائے کیونکہ ننگے بدن پھرنا بھی کئی قسم کی بدیاں پیدا کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔جس طرح اسلام یہ نہیں کہ خاص قسم کی پتلون ہو اس میں کسی سلوٹ کا نشان نہ ہو اور اُس پر خاص قسم کا کوٹ ہو اسی طرح اسلام یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ اگر تمہارے پاس پاجامہ نہ ہو تو تم یہ کہو کہ ہم تہ بند باندھ کر کہیں نہیں جاسکتے۔اگر تمہارے پاس پاجامہ ہو اور تم پاجامہ کی بجائے لنگوٹی باندھ کر کہو کہ یہ سادگی ہے تو یہ بھی اسلام کے خلاف ہوگا اور اگر تم خاص قسم کی پتلون اور کوٹ پر زور دو تو یہ بھی اسلام کے خلاف ہوگا کیونکہ پاجامہ کے ہوتے ہوئے لنگوٹی باندھنا بھی تکلف ہے اور خاص قسم کے کوٹ اور پتلون پر زور دینا بھی تکلف ہے جس طرح تکلف ہے کہ انسان شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹے اپنی آرائش میں مشغول رہے اور اُسترے اور صابن سے اپنی داڑھی کے بالوں کو اس طرح صاف کرے جس طرح ماں کے پیٹ سے اس کے کلے نکلے تھے اسی طرح یہ بھی تکلف ہے کہ انسان ننگے بدن پر بھبوت مل کر بیٹھ جائے وہ بھی تکلف کرنے والا ہے جو کوٹ اور پتلون پہن کر اور داڑھی منڈا کر اور بالوں میں مانگ نکال کر اور نکٹائی پہن کر باہر نکلتا ہے اور وہ بھی تکلف سے کام لیتا ہے جو باوجود مقدرت کے ننگے بدن لنگوٹی یا تہہ بند باندھ کر نکل کھڑا ہوتا ہے۔پھر جس طرح وہ تکلف کرتا ہے جو کوٹ اور پتلون پہن کر اس طرح چلتا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوتا کوئی آدمی چل رہا ہے بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے کوئی مشین چل رہی ہے میں نے ہاؤس آف لارڈز کے جلسوں میں انگریز نوابوں کو اس طرح چلتے دیکھا ہے مجھے تو اُن کو دیکھ کر ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی آدمی بیہوش ہو اور اس کے ساتھ ڈنڈے باندھ کر کوئی کل لگا دی گئی ہو بالکل معلوم ہی نہیں ہوتا تھا آدمی چل رہے ہیں ایسی آہستگی سے اور سوچ سوچ کر قدم اُٹھاتے ہیں کہ ان کا چلنا بھی تکلف معلوم ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں جو شخص بلا وجہ دوڑ پڑتا ہے وہ بھی تکلف سے کام لیتا ہے اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوڑ کر نماز با جماعت میں شامل ہونے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ انسانی وقار کے خلاف ہے اور اس میں تکلف پایا جاتا ہے۔اسلام ہم کو یہ سکھاتا ہے کہ ہم کسی بات میں غلو نہ کریں اور ہر بات میں نیچر اور فطرت کو ملحوظ رکھیں ہاں جس حد تک نیچر ہماری ترقی میں روک بنتا ہو اس حد تک اس کو اختیار کرنا ضروری نہیں مثلاً جسم کو نگا رکھنا ہے۔ممکن ہے کوئی شخص کہے کہ جب ہر بات میں نیچر کو لوظ رکھنا ضروری ہے تو جسم کو کپڑوں سے کیوں ڈھانکا جاتا ہے ننگے بدن کیوں۔