انوارالعلوم (جلد 16) — Page 390
انوار العلوم جلد ۱۶ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ خدام الاحمدیہ مقامی کی ریلی سے خطابہ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدام الاحمدیہ مقامی کی ریلی سے خطاب ( تقریر فرموده ۲۱ جون ۱۹۴۲ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - میری غرض اس جلسہ میں شامل ہونے سے یہ تھی کہ میں دیکھوں خدام الاحمدیہ کو کس طرح تنظیم کا کام سکھایا گیا ہے مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ تنظیم کے کام کی طرف سے عہدہ داران خدام الاحمدیہ کو کلی طور پر غفلت ہے۔حالانکہ کوئی خدمت صحیح طور پر نہیں ہوسکتی اور کامیاب طور پر نہیں ہو سکتی جب تک لوگ تنظیم کے ماتحت کام کرنے کے عادی نہ ہوں۔خدام الاحمدیہ کی غرض یہ ہے کہ علمی طور پر بھی جماعت کے تمام افراد کو سلسلہ اور اسلام کے مسائل سے واقف کریں اور عملی طور پر بھی جماعت کے ہر فرد کے اندر یہ احساس پیدا کریں کہ وہ ضرورت کے موقع پر بلا دریغ اور بلا وقفہ خدمت کیلئے حاضر ہو جائے۔تنظیم کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ایک وقت کے اندر کئی آدمیوں سے اس رنگ میں کام لیا جائے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اور اچھے سے اچھا کام کر سکیں ور نہ ہو سکتا ہے کہ عدم تنظیم کی وجہ سے طاقت بٹ جائے اور بجائے فائدہ کے نقصان پہنچ جائے مثلاً فرض کرو کہ کسی گاؤں میں اچانک دو تین جگہ آگ لگ جاتی ہے اب اگر تنظیم نہ ہو تو بالکل ممکن ہے جہاں تھوڑی آگ ہو وہاں تو سو آدمی پہنچ جائیں اور جہاں زیادہ آگ ہو وہاں دو چار آدمی ہی پہنچیں۔نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ تھوڑی آگ جسے گھر والے بھی بجھا سکتے تھے وہاں زیادہ آدمی پہنچ جائیں گے اور جہاں زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہوگی وہاں کم آدمی پہنچیں گے اور آگ کو بجھا نہیں سکیں گے اس لئے آگ ارد گرد پھیل کر کئی گھروں بلکہ ممکن ہے کہ سارے محلہ یا سارے گاؤں کو ہی بھسم کر ڈالے۔تو تنظیم