انوارالعلوم (جلد 16) — Page 23
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) لوگ کہتے ہیں یہ شیر ہے۔اب کسی کو شیر یا کتا یا سوکر اس وجہ سے نہیں کہا جاتا کہ اُس کے بھی شیر کی طرح پنجے ہوتے ہیں، یا وہ بھی گئے اور سور کی طرح ہوتا ہے بلکہ کبھی روحانی اور اخلاقی مشابہتوں کی وجہ سے ایک کو دوسرے کا نام دیدیا جاتا ہے اور کبھی ظاہری مشابہت کی بناء پر ایک کو دوسرے کا نام دیا جاتا ہے۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہمیں دیکھنا چاہئے کہ مسجد کے مشابہہ دنیا میں کونسی چیز ہے؟ میں نے اس کے لئے سب سے پہلے اس امر پر غور کیا کہ مسجد کا کام کیا ہوتا ہے اور وہ کس غرض کے لئے بنائی جاتی ہے؟ اس سوال کو حل کرنے کے لئے جب میں نے قرآن کریم پر غور کیا تو مجھے آل عمران رکوع ۱۰ میں یہ آیت نظر آئی کہ اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ | لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبْرَكاً وَّ هُدًى لِلْعَلَمِينَ " یہ آیت بیت اللہ کے متعلق ہے جو در حقیقت اوّل المساجد ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب سے پہلی مسجد اور سب سے اول اور مقدم مسجد وہ ہے جو مکہ میں بنی اور جس کی نقل میں دوسری مساجد تیار ہوتی ہیں۔یہاں بیت سے مراد در حقیقت بیت اللہ ہے یعنی اللہ کا گھر اور مسجدیں بھی اللہ کا گھر ہی کہلاتی ہیں، آگے بیان فرماتا ہے کہ اس بیت اللہ کا کام کیا ہے اور اسے دوسرے مقامات پر کیا فوقیت حاصل ہے فرماتا ہے بیت اللہ کے بنانے میں ہماری تین اغراض ہیں۔بیت اللہ کی تین اہم اغراض اوّل وُضِعَ لِلنَّاسِ۔یہ مسجد تمام بنی نوع انسان کے لئے بنائی گئی ہے کسی خاص فرد کے لئے نہیں۔وہ زید کے لئے نہیں، بکر کے لئے نہیں ، خالد کے لئے نہیں بلکہ وُضِعَ لِلنَّاسِ وہ تمام بنی نوع انسان کے لئے بنائی گئی ہے۔پھر مُبَارَ گا وہ برکت والی ہے۔تیسرے هُدًى لِلْعَلَمِینَ سب انسانوں کے لئے ہدایت کا موجب ہے۔پس دنیا میں سب سے پہلی مسجد جو بنائی گئی اس کی تین اغراض تھیں۔(۱) مساوات کا قیام اول وہ تمام بنی نوع انسان کے لئے بنائی گئی تھی ، مطلب یہ کہ مسجد ایسا گھر ہوتا ہے کہ مساوات پیدا کرتا ہے اس میں غریب اور امیر اور مشرقی اور مغربی کا امتیاز بالکل مٹا دیا جاتا ہے۔مسجد کے دروازہ کے باہر بیشک ایک بادشاہ بادشاہ ہے اور غلام غلام ، ایک شخص حاکم ہے اور دوسرا محکوم ، ایک افسر ہے اور دوسرا ماتحت مگر ادھر مسجد میں قدم رکھا اور اُدھر امیر اور غریب ، حاکم اور محکوم سب برابر ہو گئے۔کوئی بادشاہ ایسا نہیں جو مسجد میں ایک غلام سے بھی یہ کہہ سکے کہ یہاں مت کھڑے ہو تم وہاں جا کر کھڑے ہو بلکہ اسلام میں یہ مساوات اس حد تک تسلیم کی جا چکی ہے کہ بنوامیہ کے زمانہ میں جب