انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 361 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 361

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) فروخت کر سکتی ہے مگر ناک نہیں دے سکتی۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم پہلے ناک دیں گے اور پھر عطر (رَيْحَانُ ) دیں گے، ناک نہ ملا تو عطر کا کیا فائدہ مثل مشہور ہے کہ ' ناک نہ ہوا تو نتھ کیا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، ہم جنتیوں کے ناک کی جس تیز کر دیں گے تا کہ وہ خوشبو کو محسوس کر سکیں۔اور اس کے بعد ریحان دیں گے ریحان کے معنے ہیں كُلُّ نَبَاتٍ طَيِّبِ الرِّيحِ کے یعنی ہر خوشبودار چیز اُن کو ملے گی۔وَ جَنَّتُ نَعِیم اور پھر ساتھ اُن کے نعمتوں والی جنت بھی ہوگی۔یعنی یہ نہیں کہ خوشبو باہر سے آئے گی بلکہ جنت خوشبو سے بھری ہوئی ہوگی۔جسمانی طاقت کی دوائیں (۸) آٹھویں میں نے مینا بازار میں طاقت کی دوائیں دیکھیں۔کسی دوائی کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ معدہ کی طاقت کے لئے ہے، کسی دوائی کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ دل کی طاقت کے لئے ہے، کسی دوائی کے متعلق کہا جاتا تھا کہ یہ دماغ کی طاقت کے لئے ہے اور اس طرح تحریص دلائی جاتی تھی کہ ان دواؤں کو کھاؤ پیو اور مضبوط بن کر دنیا کی نعمتوں سے حظ اُٹھاؤ۔پس میں نے کہا کہ آیا مجھے وہاں بھی طاقت کی دوائیں ملیں گی یا نہیں ؟ اس خیال کے آنے پر مجھے معلوم ہوا کہ ایک رنگ میں اس بات کا بھی انتظام ہو گا ، چنانچہ فرماتا ہے وَقَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمُ طِبْتُمْ فَادْخُلُوهَا خَلِدِينَ ٤٢ فرمایا طاقت کی دوائیں بیشک ہوتی ہیں مگر ہم وہاں نہیں دیں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ طاقت کی دوائیں وہاں دی جاتی ہیں جہاں کمزوری اور بیماری ہو، مگر جہاں بیماری اور کمزوری ہی نہ ہو وہاں طاقت کی دواؤں کی کیا ضرورت ہے ؟ دنیا میں چونکہ انسان کمزور اور بیمار ہو جاتا ہے اس لئے اسے طاقت کی دواؤں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے مگر وہاں ہم اسے بیمار ہی نہیں کریں گے اور ہمیشہ تندرست رکھیں گے، چنانچہ فرما یا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ تمہیں ہمیشہ کے لئے تندرستی دے دی جائے گی۔طبتُم اور تمہاری اندرونی بیماریاں بھی ہر قسم کی دور کر دی جائیں گی گویا ظاہری اور باطنی دونوں لحاظ سے تندرستی دیدی جائے گی اور یہی دو ذریعے ہیں جن سے بیماری آتی ہے۔یا تو بیماری جر مز (GERMS) کی تھیوری کے ماتحت آتی ہے کہ باہر سے مختلف امراض کے جراثیم آتے اور انسان کو مبتلائے مرض کر دیتے ہیں اور یا پھر افعال الاعضاء میں نقص واقع ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔غرض بیماریاں دو ہی طرح پیدا ہوتی ہیں یا تو باہر سے طاعون یا ہیضہ یا ٹائیفائڈ کا کیڑا انسانی جسم میں داخل ہوتا اور اسے