انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 359

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) لگائی جاتی ہیں تا وہ جسم کو نرم کر دیں مگرفرمایا وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌ ہمارے ہاں اس قسم کی کریموں کی ضرورت ہی نہیں ہوگی کیونکہ جنتیوں کے چہروں کی بناوٹ ایسی ہوگی کہ اُن میں کوئی گھردرا پن نہیں ہوگا بلکہ وہ نرم اور ملائم ہوں گے۔نَاعِمَة کے معنے عربی زبان میں لَيِّنُ الْمَلمَسِ اے کے ہیں ، یعنی ان کے جسم نرم ہوں گے یہ نہیں ہو گا کہ سردی آئے تو اُن کے جسم میں گھردرا پن پیدا ہو جائے اور اگر گرمی آئے تو ڈھیلا پن پیدا ہو جائے ، بلکہ وہ ہمیشہ ہی نرم اور ملائم رہیں گے گویا نرم، سفید حسین ، پر رونق یعنی چمکدار اور خوش رنگ ہوں گے کریم ، پوڈر، لپ سٹک اور رُوج کسی کی ضرورت نہیں ہوگی۔یہ چیز میں آپ ہی آپ خدا تعالیٰ کی طرف سے لگی ہوئی آئیں گی۔اعلیٰ درجہ کے عطر اور خوشبوئیں (۷) پھر میں نے سوچا کہ مینا بازار میں تو خوشبوئیں بھی ملتی تھیں آیا اس مینا بازار میں بھی خوشبوئیں ہوں گی یا نہیں ؟ جب میں نے اس نقطہ نگاہ سے غور کیا تو قرآن میں یہ لکھا ہوا دیکھا کہ فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ فَرَوْحٌ وَّرَيْحَانٌ وَجَنَّتُ نَعِيم ٤٢ فرماتا ہے اگر یہ ہم سے سودا کرنے والا ہمارا مقرب ہوگا، تو اُسے پہلی چیز ہماری طرف سے روح دی جائے گی، یہاں بھی خدا تعالیٰ نے دنیوی اور اُخروی نعماء میں ایک عظیم الشان فرق کا اظہار کیا ہے۔جس طرح یہاں صرف کریمیں ملتی ہیں، پوڈر ملتے ہیں ، لپ سٹکیں ملتی ہیں، لیکن اگر کوئی چاہے کہ مجھے آنکھیں یا ہونٹ یا دانت یا منہ مل جائے تو نہیں مل سکتا۔اسی طرح دنیا میں استنی رو پے تولہ کا عطر مل جائے گا، لیکن اگر کسی شخص کے ناک میں خوشبو سونگھنے کی حس ہی نہ ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے نیا ناک نہیں دے سکتی۔اور ہم نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو خوشبو اور بد بو میں اپنے ناک کی خرابی کی وجہ سے تمیز نہیں کر سکتے۔حضرت خلیفہ اول نے جب ہمیں طب پڑھائی تو آپ نے فرمایا ایک بیماری ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں ناک کی جس ماری جاتی ہے اور انسان خوشبو اور بدبو میں کوئی فرق نہیں کر سکتا۔چنانچہ یہاں ایک شخص تھا آپ نے فرمایا آنکھیں بند کر کے اگر اُس کے سامنے پاخانے کا ٹھیکرا اور اعلیٰ درجے کا کیوڑے کا عطر رکھ دیا جائے تو وہ یہ نہیں بتا سکے گا کہ پاخانہ کونسا ہے اور عطر کونسا ؟ ایک لڑکی میری ایک عزیز کے پاس نوکر تھی ، ایک دن انہوں نے اُسے کہا کہ فلاں عطر اُٹھا کر لے آنا۔وہ کہنے لگی بی بی! مجھے سمجھی سمجھ نہیں آئی کہ یہ خوشبو وشبو کیا ہوتی ہے۔جب اُسے عطر سُونگھایا گیا تو معلوم ہوا کہ اُس کے ناک میں خوشبو سونگھنے کی جس ہی نہیں۔تو جس طرح چہرہ پہلے ٹھیک ہو، پھر پوڈر سے "