انوارالعلوم (جلد 16) — Page 345
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) شخص کمرہ میں داخل ہو گیا۔اس پر وہ انہی سردار صاحب کو جن کو چند منٹ پہلے بڑے اعزاز سے بٹھا چکا تھا کہنے لگا تمہیں شرم نہیں آتی کہ خود بیٹھے ہو اور اس کے لئے جگہ نہیں نکالتے۔آخر میں نے کسی سے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ انہوں نے شراب پی ہوئی ہے اس پر میں اگلے سٹیشن کے آتے ہی وہاں سے کھسک گیا اور میں نے شکر کیا کہ اُس نے مجھ کو جھاڑ ڈالنے کی کوشش نہیں کی۔تو شراب انسانی عقل پر بالکل پردہ ڈال دیتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَاهُمُ عَنْهَا يُنْزَفُونَ نہ انہیں نشہ چڑھے گا اور نہ بیہودہ باتیں کریں گے۔پاکیزہ مذاق اس طرح فرماتا ہے يَتَنَازَعُونَ فِيهَا كَأْ سَالَّا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ۔مؤمن وہاں آپس میں بڑی صلح صفائی اور محبت پیار سے رہیں گے اور جس ہنسی مذاق میں ایک بھائی دوسرے بھائی سے کوئی چیز چھین کر لے جاتا ہے اسی طرح وہ ایک دوسرے سے چھین چھین کر کھائیں گے۔یہ نہیں کہ اُن کے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوگا جس کی وجہ سے انہیں چھینا پڑے گا بلکہ اُن کے پاس ہر چیز کی کثرت ہوگی ، یہاں تک کہ دُودھ اور شہد اور پانی کی نہریں چل رہی ہوں گی مگر پھر بھی وہ محبت اور پیارے کے اظہار کے لئے ایک دوسرے سے پیالے چھین چھین کر پیئیں گے۔مگر دنیا میں تو اس چھیننے کے نتیجہ میں کئی دفعہ لڑائی ہو جاتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ایک کہتا ہے تم بڑے خبیث ہوا اور دوسرا کہتا ہے تم بڑے خبیث ہومگر فرما یا لَا لَغُوفِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ وہاں قلوب اتنے صاف ہوں گے کہ انسان کے دل میں اس سے کوئی رنجش پیدا نہیں ہوگی کہ اُس کے بھائی نے اس سے پیالہ چھین لیا ہے بلکہ اُن کی آپس کی محبت اور زیادہ ترقی کرے گی اور وہ اور زیادہ نیک اور پاک بن جائیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ نہ صرف وہ شراب پاک ہوگی بلکہ جتنا زیادہ اُس شراب کو پیئیں گے اُتنا ہی اُن کا دل پاک ہو گا اس سے صاف ظاہر ہے کہ دنیوی شراب کی بُرائیاں اُس میں نہیں ہوں گی۔تزکیہ نفس پیدا کرنے والی شراب مگر پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اُس کی خوبیاں کیا ہیں جن کی وجہ سے وہ پلائی جائے گی۔تو اس کا و جواب میں نے یہ پایا کہ وَ سَقَهُمْ رَبُّهُمْ شَرَاباً طَهُورًا طَهُور کے معنے پاک کے بھی اور پاک کرنے والے کے بھی ہوتے ہیں اور طاہر کے معنے ہوتے ہیں جو اپنی ذات میں پاک