انوارالعلوم (جلد 16) — Page 343
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ اور اتنی کثرت سے ہوگی کہ اس کی کوئی حد بندی ہی نہیں ہوگی مگر اس کے ساتھ ہی مجھے خیال آیا کہ مٹکوں کی شراب کو گورنمنٹ اعلیٰ نہیں سمجھتی اور وہ اس کی بجائے ولایتی شراب بوتلوں میں بند کر کے بھیجتی ہے جو اپنے اثر اور ذائقہ میں زیادہ بہتر سمجھی جاتی ہے، میں نے کہا کہ اس مینا بازار میں تو شراب میں فرق کیا جاتا ہے، کیا اُس مینا بازار میں بھی ایسا فرق ہے؟ جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہاں بھی دوستم کی شراب ہو گی ایک وہ جو نہروں کی صورت میں ہوگی اور گو یا مٹکوں والی شراب کی قائم مقام ہوگی اور دوسری شراب وہ ہوگی جو بوتلوں میں بند ہوگی چنانچہ فرماتا ہے يُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِيْقٍ مَّحْتُوْمٍ خِسْمُهُ مِسْت ۲۵ اس نہروں والی شراب کے علاوہ ایک اور شراب بھی وہاں ہوگی جو بوتلوں میں بند ہو گی جس پر مہریں لگی ہوئی ہوں گی اور جوایسی اعلیٰ درجہ کی ہوگی کہ اُس کی تلچھٹ سے بھی مشک کی خوشبو اپنے اندر رکھتی ہوگی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی شراب میں فرق ہو گا، ایک تو عام شراب ہو گی جیسے بیئر (BEAR) وغیرہ اور ایک اعلیٰ درجہ کی شراب ہوگی جو آقا کا خاص تحفہ ہوگی اور سر بمہر ہو گی اور اس کی دُرد کے مشک کی ہوگی۔روحانی شراب کی ایک عجیب خصوصیت جب میں نے سوچا کہ دنیوی شراب تو عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے، صحت بر باد کر دیتی ہے، انسان کو خمار ہو جاتا ہے ، وہ گند بکنے لگ جاتا ہے اور اس کے خیالات نا پاک اور پریشان ہو جاتے ہیں۔بیشک شراب میں کچھ فائدے بھی پائے جاتے ہیں لیکن انہی عیوب کی وجہ سے دنیا کی پچاس ساٹھ سالہ زندگی بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ شراب نہ پیو، پھر ہمیشہ کی زندگی میں اس کے استعمال کو جائز کیوں رکھا گیا ؟ اور کیا ایسا تو نہیں ہو گا کہ اس شراب کو پی کر میں اپنی عبودیت کو بُھول جاؤں؟ اس پر میں نے دیکھا کہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے لَا فِيهَا غَوَلٌ وَّلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُوْنَ " غول کے معنی عربی میں عقل اور بدن کی صحت کے چلے جانے اور خمار کے پیدا ہو جانے کے ہیں۔29 پس لَا فِيهَا غَول کے معنے یہ ہوئے کہ اس سے عقل ضائع نہیں ہو گی ، بدن کی صحت پر کوئی بُرا اثر نہیں پڑے گا اور پینے کے بعد خمار نہیں ہو گا۔یہ تین عیب ہیں جو دنیا میں شراب پینے سے پیدا ہوتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے مینا بازار کی جو شراب ملے گی اُس سے نہ عقل خراب ہو گی اور نہ صحت کو کوئی نقصان پہنچے گا۔یہاں شراب پینے والوں کو رعشہ