انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 334

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) کاٹ دیئے اور میں نے پہلی مرتبہ آزادی کا سانس لیا مگر ساتھ ہی میں اس امید میں رہا کہ پہلی زنجیریں ،بیڑیاں اور طوق کاٹنے کے بعد اب یہ نئی زنجیریں ، نئی بیڑیاں اور نئے طوق مجھے ڈالے گا مگر ایسا نہ ہونا تھا نہ ہوا بلکہ آسمان سے ایک نہایت ہی پیاری آواز آئی جو یہ تھی کہ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِي الْامِي الَّذِى يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِنْدَهُمُ فِي التَّوْرَةِ وَالْإِنْجِيلِ يَأْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْههُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَئِكَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ فَالَّذِينَ آمَنُوا بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِي أُنْزِلَ مَعَةً أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وہ لوگ جو اتباع کرتے ہیں اس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہمارا نبی ہے اور امی ہے اور جس کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی موجود ہے وہ انہیں اچھی باتوں کی تعلیم دیتا ہے اور انہیں بُری باتوں سے روکتا ہے اور ساری حلال چیزوں کی انہیں اجازت دیتا ہے اور ان باتوں سے انہیں روکتا ہے جو مضر ہوتی ہیں اور انہوں نے غلاموں کی طرح اپنے سروں پر جو بوجھ لادے ہوئے تھے انہیں اُن کے اوپر سے دُور کر دیتا ہے، اسی طرح لوگوں کے گلوں میں جو طوق پڑے ہوئے تھے انہیں ہمارا یہ رسول کاٹ کر الگ پھینک دیتا ہے۔پس وہ لوگ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتے ، آپ کی مدد کرتے اور اس نور کے پیچھے چلتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیا ہے ، اُن کے ہاتھوں اور پاؤں میں کبھی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں نہیں رہ سکتیں اور نہ اُن کی گردنوں میں طوق ہو سکتے ہیں بلکہ وہ ہمیشہ کے لئے آزاد ہو جاتے ہیں۔میں نے کہا مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ میرے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ، پاؤں میں بیڑیاں اور گردن میں طوق پڑے ہوئے ہیں، میں اپنے آپ کو آزاد سمجھتا تھا مگر جب مجھے اپنی حقیقت کا علم ہوا تو میں اِس خیال کے ماتحت اس داروغہ کے سامنے گیا کہ جب میں پہلے غلام ہوں تو ایک نئی مگر پہلے سے اچھی غلامی برداشت کرنے میں کیا حرج ہے مگر یہاں جس کے حوالے کیا گیا اُس نے بجائے طوق اور بیڑیاں پہنانے کے پہلے طوق اور بیٹریوں کو بھی کاٹ دیا اور کہا کہ اب ان کے قریب بھی نہ جانا۔میں یہ نظارہ دیکھ کر سخت حیران ہوا اور میں یہ داروند، غلاماں کا مسرت افزا پیغام سمجھا کہ آج انسان نے اس داروغہ غلاماں کے