انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 11

انوار العلوم جلد ۱۶ مستورات سے خطاب کلام الہی لے کر آتے ہیں تو اُن کے مخاطب عورتیں اور مرد یکساں ہوتے ہیں۔اسی طرح قضاء وقدر کے مسائل ہیں ان میں بھی مرد اور عورت یکساں مخاطب ہوتے ہیں۔جزاء وسزا پر ایمان لانا بھی جس طرح مردوں کے لئے ضروری ہے اسی طرح عورتوں کے لئے ضروری ہے۔غرض عقیدوں کو دیکھ لو ایک عقیدہ بھی ایسا نہیں جو مردوں کے لئے ہو اور عورتوں کے لئے نہ ہو۔اس کے بعد ہم عمل کی طرف آتے ہیں تو ہمیں عمل میں بھی کوئی فرق نظر نہیں آتا۔مثلاً عمل میں نماز کا حکم ہے۔نماز کا حکم جیسا مردوں کے لئے ہے ویسا ہی عورتوں کو ہے۔وہی رکھتیں مردوں کے لئے ہیں اور وہی عورتوں کے لئے۔پھر ز کوۃ کا حکم ہے۔اس کا حکم بھی جیسا عورتوں کو دیا ویسا ہی مردوں کو۔روزوں کا حکم ہے اس میں بھی کوئی فرق نہیں۔حج میں بھی سب برابر ہیں۔صدقہ وخیرات کے حکم میں بھی دونوں برابر ہیں۔پس عقائد ایک سے ہیں اور اعمال ایک ہیں۔پھر اگر کوئی یہ کہے کہ عورتیں الگ جنس ہیں تو ہم کیسے مان سکتے ہیں۔تعجب ہے کہ وہ اسلام جو اس لئے آیا تھا کہ عورت کی عزت قائم کرے آج اُسی کو ماننے والی عورتیں اپنے آپ کو نالائق قرار دے کر اعلیٰ دینی خدمات سے محروم ہو رہی ہیں۔اسی طرح مرد بھی اس اہم فرض سے غافل ہیں۔گویا دونوں نسلِ انسانی کو ختم کر رہے ہیں اور اپنی ذلت ورسوائی کا باعث بن رہے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے وَإِذَا الْمَوْدَةُ سُئِلَتْ - یعنی عورت کے متعلق سوال کیا جائے گا کہ اُسے زندہ کیوں گاڑا گیا۔اس میں اسی طرف اشارہ ہے کہ عورتوں کی تباہی کی ذمہ داری صرف مردوں پر نہیں اور نہ صرف عورتوں پر بلکہ دونوں اس کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔آج جب قریباً ہر عورت یہ خیال کر رہی ہے کہ میرے اندر کام کرنے کی طاقت نہیں تو ہر ایک عورت اپنے آپ کو نہیں بلکہ اپنی ساری نسل کو زندہ درگور کر رہی ہے جس طرح مرد اُن کو زندہ درگور کیا کرتے تھے۔یہ وہ عورتیں ہیں جن کی آنکھیں تو گھلی ہیں لیکن دیکھتی نہیں اور سانس تو لے رہی ہیں مگر دل مردہ ہیں۔اس موت کے ذمہ دار سب سے پہلے ماں باپ ہیں جنہوں نے اُن کو جنا۔پھر اُن کی موت کے ذمہ دار بڑے بھائی بہن ہیں۔پھر ان کی موت کے ذمہ دار خاوند ہیں۔پھر اُن کی موت کے ذمہ دار اُن کے بیٹے ہیں۔ان سب نے مل کر اُن کو مار ڈالا۔اگر تمہارے اندر بیداری پیدا ہو جائے تو سمجھ لو کہ عقائد اور کاموں کے لحاظ سے مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں۔صرف ایک کام ہے جس میں مرد اور عورت کا فرق ہے اور وہ جہاد