انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 241

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ ہم کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے سالانہ جلسہ میں اتنے لوگ شریک بھی نہیں ہوتے جتنے خدا تعالیٰ کے فضل سے بیرونی ممالک میں ہر سال ہماری جماعت میں نئے شامل ہو جاتے ہیں۔جن جماعتوں میں کوئی نیا آدمی شامل نہیں ہوا یا جن کے بیعت کرنے والوں کی تعداد کم ہے انہیں توجہ کرنی چاہئے اور تبلیغ میں بہت کوشش کرنی چاہئے یہ کیا کم عزت ہے کہ اتنے مجمع میں ان جماعتوں کے نام پڑھے جاتے ہیں جو کوشش کر کے نئے افراد کو جماعت میں داخل کرتی ہیں اور اس طرح ہزاروں لوگوں کے دل سے ان کے لئے دعائیں نکلتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر برکتیں نازل کرے۔پس جو جماعتیں اس سال ان دعاؤں سے محروم رہی ہیں ان کو کوشش کرنی چاہئے کہ اگلے سال ان کا نام بھی آ جائے۔اس کے بعد میں تفسیر کے کام کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔یہ۔تفسیر القرآن کا کام کام تمام سال میرے لئے شدت کی بیماری کا سال رہا ہے۔اپریل میں مجھے پھوڑے کی تکلیف ہو گئی اور وہ اتنی زیادہ تھی کہ بعض دنوں میں تو میں رات کو سو بھی نہیں سکتا تھا۔اور بعد میں جب وہ مزمن صورت اختیار کر گیا تو دن کے وقت بھی بیٹھ نہ سکتا تھا بلکہ لیٹنا پڑتا تھا اور وہ بھی پہلو پر۔درد کی تکلیف مزید برآں تھی۔یہ تکلیف برابر ستمبر کے آخر تک رہی۔ستمبر کے آخر میں آپریشن کرایا اور اس طرح ایک ماہ پھر لیٹنا پڑا۔اس کے بعد گودرد وغیرہ تو نہ رہا مگر معلوم نہیں کس وجہ سے سخت ضعف ہو گیا حتی کہ جلسہ سے ۵، ۶ دن قبل تک یہ حالت تھی کہ میں اچھی طرح چل پھر نہ سکتا تھا۔چلتا تو قدم لڑکھڑاتے تھے جیسے اتنی پچاسی سال کے بوڑھوں کے لڑکھڑاتے ہیں۔مسجد اقصیٰ کی ۴، ۵ سیٹرھیاں ہیں اور میں سونٹے کے سہارے اور تکلیف کے بغیر وہ بھی نہ چڑھ سکتا تھا اس لئے نومبر تک تو کوئی کام نہ ہو سکا۔نومبر کے بعد کام شروع کیا اور اس طرح یہ ناممکن ہو گیا کہ اس سال تفسیر کے کام کو مکمل کیا جا سکے۔مگر پھر بھی ۲۷۵ صفحات کا مضمون ہو گیا ہے۔جس میں سے دوسو سے زائد صفحات چُھپ گئے ہیں۔کچھ مضمون کا تب کے پاس ہے اور کچھ دفتر والوں کے پاس اور اب مزید کام جلسہ کے بعد ہو گا۔یہ حصہ پہلی جلد کی نسبت زیادہ تفصیلی ہے۔پہلی جلد کا آخری حصہ عین جلسہ کے ایام کے قریب مکمل کیا گیا تھا اس لئے بعض مضامین کو مختصر کرنا پڑا اور بعض مضامین کی طرف صرف اشارے کر دیئے گئے۔کل ہی میں نے ایک آیت دیکھی اس کے متعلق جو مشکلات میرے ذہن میں تھیں مجھے خیال تھا کہ ان کا حل اس میں کر دیا گیا ہے مگر جب دیکھا تو وہاں ان کا ذکر تک نہ تھا۔یہ مضمون جو آب لکھا گیا ہے اور لکھا