انوارالعلوم (جلد 16) — Page 211
اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ سمجھ میں یہ بات نہیں آئی اور وہ اب بھی یہی خیال کرتے ہیں کہ ہمارے جلسہ سالانہ کو اپنی اغراض کے لئے استعمال کرنے کا ان کا مطالبہ بالکل جائز اور معقول ہے تو سوائے اس کے کہ میں إِنَّ لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ ۱۰۹ کہوں اور کیا کہہ سکتا ہوں۔مولوی صاحب نے اپنے خط میں اس بات پر بڑے غصہ کا اظہار کیا ہے کہ میں نے بے حیا، بے شرم اور ڈھیٹ کے الفاظ سے ان کو یاد کیا ہے لیکن ان کو یہ بھول گیا ہے کہ پہلے انہوں نے میرے جواب کو اسلامی تعلیم کی ضد کہا ہے اور اسلامی تعلیم کی ضد کفر ہوتا ہے۔یقینا اس کلام کے جواب میں اگر مولوی صاحب کے اس مطالبہ کی نسبت کہ ان کی خاطر جماعت احمد یہ ہزاروں کا خرچ برداشت کرے یہ کہا جائے کہ مہمان اگر میزبان سے یہ مطالبہ کرے کہ اس کے آنے پر ہزاروں کا خرچ برداشت کیا جائے تو یہ بے شرمی ہے ہرگز بے جانہیں۔کسی شخص سے بے شرمی کا ارتکاب اسلام کی ضد فعل کے ارتکاب سے تو اچھا ہی ہوتا ہے۔اگر مولوی صاحب کا کچھ اور خیال ہے تو یہ اپنی اپنی سمجھ ہے۔نیز جس شخص کے ساتھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو معاویہ کہیں ، جماعت احمدیہ کے موجودہ امام کو یزید کہیں اور وہ ان کی تائید کرے اور جو شخص قادیان کے آٹھ ہزار احمدیوں کو ایمان فروش قرار دے اُس کے منہ سے ان الفاظ کے استعمال پر اعتراض جو اس کے لئے براہ راست نہیں بلکہ مثالی طور پر کئے گئے ہیں ایک ایسی بات ہے جس کا سمجھنا میری عقل سے بالا ہے۔میں مولوی صاحب کے مطالبہ کا جواب پہلے دے چکا ہوں۔مجھے نہ ان کے جلسہ میں جانے کی خواہش ہے اور نہ اس کی کچھ ضرورت معلوم ہوتی ہے ہمیں جہاں تک خدا تعالیٰ توفیق دیتا ہے غیر مبائعین تک اپنے خیالات پہنچاتے رہتے ہیں اور جس وقت مزید ضرورت محسوس ہوگی خدا نے جو تو فیق دی ہے اس کے مطابق سامان جمع کریں گے۔ہم سے خدا تعالیٰ ہرگز یہ سوال نہیں کرے گا کہ تم نے مولوی محمد علی صاحب سے ان کے جلسہ میں جا کر تقریر کرنے کی خواہش کی یا نہیں۔پس جبکہ ہم حسب ضرورت غیر مبائعین کو اور دوسرے لوگوں کو بھی اپنے خیالات پہنچا رہے ہیں اور جو نہ شنے وہ خود گنہگار ہوتا ہے تو مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں مولوی صاحب کے جلسہ پر جاؤں۔یہ خواہش تو ان کے دل میں پیدا ہو رہی ہے کہ وہ ہماری جماعت کو اپنے خیالات سنائیں۔میں نے ان کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے حالانکہ اس کا پورا کرنا شریعت مجھ پر واجب نہیں کرتی ان کو دعوت دی تھی کہ جلسہ کے ایام کے سوا کسی اور موقع پر قادیان آ کر تقریر کرنے کا موقع دے سکتا ہوں۔اگر انہیں یہ دعوت منظور ہو تو وہ بخوشی تشریف لائیں اگر نہیں تو ان کی مرضی۔