انوارالعلوم (جلد 16) — Page 210
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔قادیان کی جماعت کو منافق قرار دیا ہے چونکہ ان کو مخاطب کر کے جواب دینا پسند نہیں کرتا اس لئے اخبار میں اُن کی اس چٹھی کا جواب دیتا ہوں۔مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ میں نے یہ فرض کر کے اپنے خطبہ میں ان کی کھلی چٹھی کا جواب دینا شروع کر دیا کہ میں (مولوی محمد علی صاحب) کہہ رہا ہوں کہ آپ کے جلسہ پر دو ہزار آدمی اپنے ساتھ لاؤں گا اور آپ ان کی مہمانی کا انتظام کریں حالانکہ میں نے آج تک کبھی یہ نہیں لکھا کہ میرے ساتھ دو ہزار، یا دوسو، یا دو آدمیوں کی مہمانی کا آپ انتظام کریں۔اس کا جواب یہ ہے کہ میں نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ مولوی صاحب نے دو ہزار آدمی ساتھ لانے کولکھا ہے۔میں نے تو مثال دی تھی کہ مولوی صاحب کا یہ مطالبہ کہ جلسہ سالانہ پر جو ۲۰، ۲۵ ہزار آدمی آتے ہیں اُن کی اس غرض کو ضائع کر کے جس کے لئے وہ قادیان میں آتے ہیں مولوی صاحب کے لیکچروں کا انتظام کیا جائے اور اس طرح وہ خرچ جو جماعت اپنے کام کے لئے کرتی ہے مولوی صاحب کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کرے۔یہ بات تو ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص خود ہی کارڈ چھپوا کر دو ہزار لوگوں کو بھیج دے کہ فلاں شخص کے ہاں میرا ایٹ ہوم (AT HOME) ہے تم بھی اس میں شریک ہو۔یا کسی کے ہاں شادی ہو لوگ جمع ہوں اور مولوی صاحب بہت سے لوگوں کو ساتھ لے کر وہاں پہنچ جائیں اور کہیں کہ میں نے اسلام کے متعلق تقریر سنانی ہے تم اپنی تقریب کو چھوڑ دو اور میری تقریر سنو۔اوپر کے فقرات سے ظاہر ہے کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ مولوی صاحب اپنے دو ہزار ساتھیوں کو لے آئیں گے۔مثال بالکل واضح ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی غرض کے لئے دوسرے سے خرچ کا مطالبہ کرنا درست نہیں اگر ہم اپنے سالانہ جلسہ کا وقت مولوی صاحب کی تقریروں کے لئے لگا دیں تو جتنا وقت ان کو دیں گے اتنا وقت جلسہ کے وقت میں بڑھانا پڑے گا اور اس سے ہم پر خرچ کا بار پڑے گا اور اس قسم کے خرچ کرنے کا مطالبہ میرے نزدیک اسلامی کے مخالف ہے مطابق نہیں ہے۔اور جو کچھ میں نے کہا تھا اس کا موجب مولوی محمد علی صاحب کی چٹھی کا یہ فقرہ تھا کہ قادیان میں جا کر ہم آپ کے مہمان ہوں گے اور آپ اور آپ کی جماعت کی حیثیت میزبان کی ہوگی اور میزبان کا یہ مطالبہ کہ مہمان اپنا ہی نہیں میز بان کا خرچ بھی ادا کرے مہمان نوازی کے اسلامی خلق کی بالکل ضدّ ہے۔“ اگر باوجود اس فقرہ کے اور باوجود میری مثال کی وضاحت کے مولوی محمد علی صاحب کی