انوارالعلوم (جلد 16) — Page 174
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔،، ہوں اسے نبی کہتے ہیں۔‘‘ ۴۹ پھر فرماتے ہیں:- نبی اُس کو کہتے ہیں جو خدا کے الہام سے بکثرت آئندہ کی خبریں دے۔‘۵۰ پھر فرماتے ہیں:- ” میرے نزدیک نبی اُسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو۔‘۵۱۷ نبی کے لئے شریعت لانا یا صاحب شریعت کا متبع نہ ہوناضروری نہیں پھر فرماتے ہیں:۔یہ تمام بدقسمتی دھوکا سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنے صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔‘۵۲ پھر فرماتے ہیں:- دو نبی کے لئے شارع ہونا شرط نہیں ہے۔یہ صرف موہبت ہے جس کے ذریعہ سے امورِ غیبیہ کھلتے ہیں۔۔مذکورہ بالا عبارتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کثرت علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں نبی کی تعریف خدا تعالیٰ کی اصطلاح میں ، قرآن کریم کی اصطلاح میں، سے امور غیبیہ پر اطلاع دی گئی اسلام کی اصطلاح میں، انبیائے سابقین کی اصطلاح میں لغت کے اصطلاح میں اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت صرف یہ ہے کہ کسی کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جائے اور جب یہ امر متحقق ہو گیا تو ماننا پڑے گا کہ حدیث میں جو لفظ نبی کا آپ کی نسبت استعمال ہوا ہے۔اسے اگر آپ نے کبھی بھی استعارہ قرار دیا ہے تو یہ استعارہ کا لفظ عام مسلمانوں کی تعریف نبوت کو مد نظر رکھ کر ہے ورنہ مذکورہ بالا ہستیوں کی تعریف کے مطابق نبی کا لفظ حدیث میں بطور استعارہ استعمال نہیں ہوا بلکہ حقیقت پر مبنی ہے۔کیونکہ اگر مذکورہ بالا ہستیوں کی تعریف کے مطابق حدیث مسلم میں اس لفظ کو