انوارالعلوم (جلد 16) — Page 163
اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ اور ان سے اوپر کے سب راوی مسلم اور ترمذی کے راویوں سے مشترک ہیں۔ہاں عبد الرحمن بن یزید سے نیچے کے راوی یہاں بھی مختلف ہیں جس طرح مسلم اور ترمذی کے مختلف ہیں۔اور اس روایت میں بھی عیسی نَبِی اللہ کے الفاظ چار دفعہ اسی طرح بیان ہوئے ہیں جس طرح مسلم میں بیان ہوئے ہیں۔اب جناب مولوی صاحب بتائیں کہ یہ ذاتی تصرف کس نے کیا ہے؟ اگر تو عبدالرحمن بن یزید یا اوپر کے راویوں میں سے کسی نے تو وہ سب حدیثوں میں مشترک ہیں۔یہ کس طرح ہو سکتا تھا کہ مسلم اور ابن ماجہ کی روایت میں وہ ذاتی تصرف کر دیتے اور ترندی میں نہ کرتے۔اور اگر کہو کہ نچلے راویوں میں سے کسی نے ذاتی تصرف کر دیا ہے تو یاد رہے کہ مسلم اور ابن ماجہ دونوں حدیث کی کتب نبی اللہ کے لفظ پر متفق ہیں ۳۵ اور پھر مسلم نے دوراویوں سے یہ روایت کی ہے پس اگر غلطی کی ہے تو ترندی کے راوی نے کی ہے کیونکہ وہ اکیلا ہے اور مسلم اور ابن ماجہ کے تین الگ راوی ہیں جو نبی اللہ کے لفظ پر متفق ہیں۔مولوی محمد علی صاحب نے آخری دلیل یہ پیش کی حدیث میں مسیح موعود علیہ السلام کو نبی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لفظ نبی کا استعمال فرمایا ہے وہ ضرور استعارہ ہے اور اس کہہ کے حقیقی معنوں میں نہیں پکارا گیا کے ثبوت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ حوالے پیش کئے ہیں:- آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبانِ مقدس حضرت نبوی سے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کی رو سے ہے جو صوفیائے کرام کی کتابوں میں مسلم اور ایک معمولی محاورہ مکالماتِ الہیہ کا ہے ورنہ خاتم الانبیاء کے بعد نبی کیسا دوسرا حوالہ یہ درج کیا ہے کہ :- وہ نبی کر کے پکارنا جو حدیثوں میں مسیح موعود کے لئے آیا ہے وہ بھی اپنے حقیقی معنوں پر اطلاق نہیں پاتا۔یہ وہ علم ہے جو خدا نے مجھے دیا ہے جس نے سمجھنا ہو سمجھ لے۔۔جب قرآن کے بعد بھی ایک حقیقی نبی آ گیا اور وحی نبوت کا سلسلہ شروع ہوا تو کہو کہ ختم نبوت کیونکر اور کیسا ہؤا۔کیا نبی کی وحی وحی نبوت کہلائے گی یا کچھ اور ؟ تو بہ کرو اور خدا۔