انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 145

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔عزیزم عبد الحی مرحوم کو جو ٹائیفائڈ سے فوت ہؤا۔) چہارم۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پہلے اُموی خلیفہ معاویہ کے مثیل تھے۔اور دوسرا اُموی خلیفہ ان کا بیٹا یزید ثانی ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو معاویہ کا مثیل اور خلیفہ قرار دے کر اس پر نوٹ لکھا ہے کہ :- اگر چہ اب انجمن نبی سازان قادیان نے مرنے کے بعد ان کو نبی بنا دیا ہے۔“ یعنی یزید ثانی کا باپ ہونے کے لحاظ سے ان کے معاویہ کا مثیل اور خلیفہ ہونے کا ثبوت ظاہر اور باہر ہے۔ان کو نبی قرار دینا قادیان کے نبی ساز لوگوں کی کارستانی ہے ورنہ یزید اول کا باپ اگر خلیفہ تھا تو یزید ثانی کا باپ نبی کیونکر ہوسکتا ہے؟ اللہ اللہ ! میری دشمنی میں یہ لوگ کس قدر بڑھ گئے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا درجہ ابو یزید اور معاویہ کا سا قرار دیتے ہیں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاویہ کی خلافت کو ملوکیت قرار دیا ہے اور خلفائے راشدین سے خارج کیا ہے۔ہاں اس شخص کے نزدیک حضرت مولوی نور الدین صاحب علی کی طرح خلیفہ تھے گو یہ تشریح نہیں کی کہ معاویہ اور یزید کے درمیان علی کس طرح آدھمکا اور نہ یہ بتایا ہے کہ اگر حضرت مولوی نورالدین صاحب بھی خلیفہ تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی خلیفہ تھے تو پھر یہ یزید ثانی دوسرا خلیفہ کیونکر ہو گیا۔جیسے کہ لکھا ہے:- یہاں بھی اس دمشق میں دوسرا ہی خلیفہ یزید اور از روئے 66 حدیث والهام مسیح موعود اور واقعات چشم دید سے کہلایا۔“ اگر حضرت مولوی صاحب خلیفہ تھے تو پھر تو میں تیسرا خلیفہ قرار پاتا ہوں اور ساری دلیل جس پر بنیاد مضمون کی رکھی گئی ہے باطل ہو جاتی ہے۔اس ادب کو بھی ملحوظ رکھا جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو معاویہ اور آپ کے خادم اور شاگرد کو جس کی ساری عزت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں تھی علی قرار دیا گیا ہے۔اور پھر اس کو بھی یا درکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گو حضرت معاویہ کی نسبت یہ لکھا ہے کہ حضرت علیؓ کے زمانہ میں وہ باغی اور طافی تھے اور لکھا ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ وَ مَنْ قَاتَلَهُ فِي وَقْتِهِ فَبَغِی و طغی کا یعنی جو لوگ حضرت علیؓ کے زمانہ خلافت میں آپ کے مقابلہ پر لڑتے رہے وہ