انوارالعلوم (جلد 16) — Page 140
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔دیتے ہیں اُس میں آپ اور آپ کے ساتھی کیوں ملوث ہوئے اور کیوں آپ نے اپنے آپ کو اور اپنے دوستوں کو نصیحت نہ کی؟ آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہم آپ کو پیغامی کہیں یا غیر مبائع ، ساتھ ہی احمدی بھی کہتے ہیں۔لیکن آپ کی طرف سے یہ اعلان ہے کہ نہ ہم ان کو احمدی کہہ کے پکارتے ہیں۔ان کا نام محمودی ہے احمدی نہیں۔“ پھر مولانا! آپ نے یہ بھی سوچا ہے کہ احادیث سے ثابت ہے کہ مسلمانوں کا نام کفار میں صابی مشہور تھا۔جب کوئی مسلمان ہوتا تھا تو لوگ کہتے تھے فلاں شخص صابی ہو گیا ہے۔کیا دشمنوں میں اس شہرت کی وجہ سے مسلمان کو صابی کہنا درست ہوگا؟ کاش ! آپ غور فرماتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ لوگوں میں کسی نام سے کسی کا مشہور ہو جانا دوسروں کو یہ حق نہیں دے دیتا کہ وہ اسے اس نام سے پکاریں۔اصل سوال تو یہ ہوتا ہے کہ اس نام سے پکارنے کی کوئی خاص وجہ ہے اور کیا اس نام میں کوئی سیکی یا تحقیر کا پہلو تو نہیں اور اگر آپ غور فرماتے تو آپ کو معلوم ہو جا تا کہ پیغامی نام محض امتیازی ہے اور پیغام کا لفظ ہر گز گالی نہیں۔لیکن محمودی کا لفظ یقینا گالی ہے کیونکہ اس سے آپ کے رفقاء کا (جیسا کہ حوالہ اوپر آچکا ہے ) اس طرف اشارہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ احمدی نہیں ہیں ہاں اگر آپ امتیاز کے طور پر ہمارے لوگوں کو بدلہ لینے کے لئے ” الفضلی“ کہیں تو یہ صحیح جواب ہوگا اور اس کی کوشش آپ کی جماعت کر بھی چکی ہے مگر چونکہ اس میں انہیں کامیابی نہیں ہوئی اس لئے وہ اسے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔میں نے کسی جگہ لکھا تھا کہ بعض لوگ کبوتر کی مولوی محمد علی صاحب اور بلّی کا محاورہ طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہم محفوظ ہو گئے ہیں مولوی صاحب اس کا ذکر فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ ابھی ابھی مولانا غلام حسن صاحب اور صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب (دوکبوتروں ) کی گردن مروڑ چکے ہیں کیونکہ ان بزرگوں کے عقیدے اب تک وہی ہیں جو ہمارے ہیں مگر عقائد کی طرف سے انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور قادیانیت کی بلی کا شکار ہو گئے، کے مولوی صاحب کو اس سے خوشی تو بہت ہوئی ہو گی کہ مولوی غلام حسن صاحب اور صاحبزادہ سیف الرحمن صاحب کو اگر بحث اور مباحثہ میں نقصان نہیں پہنچا سکے تو کم سے کم اپنے مضمون میں ان بزرگوں کی گردن مروڑ نے کا فقرہ استعمال کر کے اپنے دل کو ٹھنڈک پہنچا لی گئی۔