انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 82

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ پیالہ رکھدیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابو ہریرہ ! اور پیو۔میں نے اس پر پھر دودھ پینا شروع کر دیا یہاں تک کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ دودھ کی تراوت میرے ناخنوں تک پہنچ گئی ہے، آخر میں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! اب تو بالکل نہیں پیا جا تا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے اور آپ نے پیالہ لے کر بقیہ دودھ خود پی لیا۔کے غرض صحابہ کی قربانی کا یہ حال تھا کہ وہ بعض دفعہ فاقوں پر فاقے کرتے مگر مسجد میں بیٹھے رہتے تا کہ ایسا نہ ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بات فرما ئیں اور وہ اسے سننے اور لوگوں تک پہنچانے سے محروم رہ جائیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ انہیں ہمیشہ فاقے آتے تھے کیونکہ مسلمان انہیں کھلاتے بھی رہتے تھے اور بعض صحابہ کے گھروں سے تو انہیں باری باری کھانا آتا تھا البتہ کبھی کبھی انہیں فاقہ بھی برداشت کرنا پڑتا تھا۔ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت ہر جمعرات یا جمعہ کو انہیں چقندر پکا کر بھیجتی تھی اسی طرح کسی دن کوئی صحابی کھانا بھجوا دیتا اور کسی دن کوئی۔جب وہ عورت فوت ہو گئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس کا علم نہ ہوا۔چند دن کے بعد آپ نے دریافت فرمایا کہ فلاں عورت کئی دنوں سے دیکھی نہیں۔صحابہ نے عرض کیا کہ يَارَسُوْلَ اللہ ! وہ تو فوت ہو گئی ہے۔آپ نے فرمایا تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ وہ تو اصحاب الصفہ کو چقندر کھلایا کرتی تھی اگر تم مجھے بتاتے تو میں خود اُس کا جنازہ پڑھاتا۔"کے غرض صحابہ نے وہ سب کام کر کے دکھائے جو مسجد سے مقصود ہوتے ہیں وہ عبادت کے محافظ تھے ، وہ عابدوں کے جمع کرنے والے تھے ، وہ شر سے بچانے والے تھے ، وہ امن کو قائم کرنے والے تھے ، وہ امامت کو زندہ رکھنے والے تھے وہ مسافروں کے لئے ملجاء، وہ متوطنوں کے لئے ماوی ، وہ واقفین زندگی کے لئے جائے پناہ تھے۔ان کے مقابل پر یہ شاہی مسجد اور مکہ مسجد اور جامع مسجد اور موتی مسجد بھلا کیا حقیقت رکھتی ہیں۔اُس روحانی مسجد نے ایک گھنٹہ میں جو ذکر الہی کا نمونہ دکھایا وہ ان مساجد میں صدیوں میں بھی ظاہر نہ ہوا۔مگر افسوس کہ لوگ ان پتھر اور اینٹ کی مسجدوں کو دیکھتے اور ان کے بنانے والوں کی ہمت پر واہ واہ کرتے ہیں ، لیکن قرآن ، حدیث اور تاریخ کے صفحات پر سے اُس عظیم الشان مسجد کو نہیں دیکھتے جس کا بنانے والا دنیا کا سب سے بڑا انجینئر محمد نامی تھا (صلی اللہ علیہ وسلم) اور جس مسجد کی بناء سرخ و سفید پتھروں سے نہیں بلکہ مقدس سینوں میں لٹکے ہوئے پاکیزہ موتیوں سے تھی۔یہی وہ مسجد ہے جس کو دیکھ کر ہر عقلمند اور شریف انسان جس کے اندر جذبات شکر اور احسان مندی پائے جاتے ہوں بے اختیار