انوارالعلوم (جلد 16) — Page 496
۲۳ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو نزدیک ہاتھ سے کام کے بغیر خالص دماغی قابلیتیں کسی کام کی نہیں ہوتیں۔پس وہ پادریوں اور اسی قسم کے اور مذہبی آدمیوں یا علماء اور فلاسفروں وغیرہ کو نکتا سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں انہیں اپنے ہاتھ سے کوئی کام کرنا چاہئے ورنہ ان کے بھوکا رہنے کی حکومت پر ذمہ داری نہیں ہوگی۔تیسرے اُصول کا نتیجہ یعنی حکومت کے مقرر کردہ تیسرے اصول کے مطابق انہوں نے زمینداروں اور معیار سے زائد اشیاء پر قبضہ کر لینے کا فیصلہ تاجروں وغیرہ سے ہر وہ چیز جو حکومت کے مقرر کردہ معیار سے زائد ہولے لینے کا فیصلہ کیا۔یعنی اگر کوئی شخص اپنی زمین سے پچاس من غلہ پیدا کرتا ہے اور اس کی ضروریات کے لئے ہیں من غلہ کافی ہے تو تمیں من غلہ حکومت لے جائے گی اور کہے گی کہ یہ چیز چونکہ تمہاری ضرورت سے زائد ہے اس لئے اس پر حکومت کا حق ہے۔یا ایک شخص کے پاس بہت بڑی زمین ہے اور اُس کا گزارہ تھوڑی سی زمین پر بھی ہوسکتا ہے تو جتنی زمین پر اُس کا گزارہ ہوسکتا ہے وہ اُس کے پاس رہنے دی جائے گی اور باقی زمین پر حکومت قبضہ کرلے گی۔چوتھے اصول کا نتیجہ یعنی عملی آزادی کا فقدان چوتھے اصول کے مطابق زمیندار ، تاجر اور صنعت پیشہ لوگوں کی عملی آزادی کو اُس نے چھین لیا اور حکومت کے منشاء کے مطابق زراعت کرنا ، تجارت کرنا اور صنعت و حرفت اختیار کرنا لازمی قرار دیا۔مثلاً کہہ دیا کہ فلاں سومیل کا جو علاقہ ہے اس میں صرف گندم بوئی جائے ، فلاں علاقہ میں صرف گنا بویا جائے اور فلاں علاقہ میں صرف کپاس بوئی جائے۔ہمارے ملک میں تو زمیندار عام طور پر دو مرلہ میں جوار بو لیتے ہیں، دومرلہ میں کپاس بو لیتے ہیں اور دو مرلہ میں گنا بو لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چھوٹے بچے ہیں گنے چوسیں گے اور اگر چھوٹے زمیندار ایسا نہیں کرتے تو جس کے پاس دس بارہ گھماؤں زمین ہو وہ تو ضرور ایسا کرتا ہے مگر بالشویک حکومت والوں نے علاقوں کے علاقوں کے متعلق یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ یہاں گندم نہیں بونی بلکہ گنا ہونا ہے۔کئی ضلعے ایسے ہیں جہاں صرف گندم بوئی جاتی ہے، کئی ضلعے ایسے ہیں جہاں صرف گنا بویا جاتا ہے اور کئی ضلعے ایسے ہیں جہاں صرف کپاس ہوئی جاتی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں یہ علاقے اسی فصل کے لئے موزوں ہیں اس لئے ہم حکم دیتے ہیں کہ اسکے علاوہ اور کوئی فصل اس موسم کی وہاں نہ ہوئی جائے۔اگر کوئی کہے کہ پھر میں کھاؤں گا