انوارالعلوم (جلد 16) — Page 490
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام نو کا نظریہ تھا جس سے بالشوزم پیدا ہوا۔مارکسزم کا تیسرا اُصول مارکس نے ایک یہ رائے بھی دی کہ مالدار زمیندار اور صناع اتنی طاقت پکڑ چکے ہیں اور مزدور اتنے بے بس ہو چکے ہیں کہ موجودہ حکومت کے توڑنے پر بھی وہ زیادہ دیر تک اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کر سکتے۔لطیفہ مشہور ہے کہ کسی کا کوئی سائیں سکے تھا جسے آٹھ دس روپے ماہوار ملا کرتے تھے۔ایک دفعہ کسی شخص نے اسے سمجھایا کہ آجکل ہر شخص کو چالیس پچاس روپے ملتے ہیں اور تو آٹھ دس روپوؤں پر گزارہ کر رہا ہے اپنے آقا سے کہتا کیوں نہیں کہ میری تنخواہ زیادہ کرو۔وہ کہنے لگا میں رکس طرح کہوں؟ اُس نے کہا تو کوئی غلام ہے اگر وہ تیری تنخواہ بڑھائے تو بہتر نہیں تو کسی اور جگہ ملازمت کر لینا۔آخر بہت کچھ سمجھانے پر وہ تیار ہو گیا اور اس نے دل میں عہد کر لیا کہ آج جب آقا آیا تو اُسے صاف صاف کہہ دوں کہ یا تو میری تنخواہ بڑھائی جائے ورنہ میں نوکری چھوڑتا ہوں۔اُس کا آقا اُس وقت سواری پر کہیں باہر گیا ہوا تھا جب واپس آیا تو سائیں اُس کے سامنے جا کھڑا ہوا اور کہنے لگا صاحب! ایک بات سُن لیجئے۔اُس نے کہا کیا ہے؟ کہنے لگا سب کو تنخواہیں زیادہ ملتی ہیں اور میری تنخواہ بہت کم ہے پس یا تو میری تنخواہ بڑھائیں ورنہ۔جب اُس نے کہا یا تو میری تنخواہ بڑھائیں ورنہ۔تو اُسکے آقا نے کوڑا اٹھا کر اسے مارا اور کہا۔ورنہ کیا ؟ کہنے لگا۔ورنہ آٹھ پر ہی صبر کریں گے اور کیا کریں گے۔گویا یکدم اُس کو ساری باتیں بُھول گئیں۔یعنی یا تو وہ یہ کہنا چاہتا تھا کہ ”ورنہ میں نوکری چھوڑ دوں گا۔اور یا ایک کوڑا ا پڑتے ہی یہ کہنے لگا ورنہ پھر آٹھ پر ہی صبر کریں گے اور کیا کریں گے۔لمبے عرصہ کی غلامی کا نتیجہ تو ایک لمبے عرصہ کی غلامی کے بعد انسان کی فطرت بالکل بدل جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہے چو ہڑوں اور چماروں کو کتنا ہی اُٹھانے کی کوشش کرو اور کتنی ہی دیر اُن سے باتیں کرتے رہو آخر میں وہ یوں مسکرا کر کہ جیسے ہمارا دماغ پھر گیا ہے کہیں گے کہ رب نے جس طرح بنایا ہے اس میں اب کیا تغیر ہو سکتا ہے۔گویا اُن کے نزدیک جس قدر مصلح اور ریفارمر ہیں سب کے دماغ خراب ہوسکتا ہیں۔یہی کارل مارکس نے کہا کہ ان لوگوں کی حالت بدلنے والی نہیں۔اگر عوام کو اختیار دے دیئے گئے تو وہ پھر ڈر کر ہتھیار رکھ دیں گے اس لئے شروع میں مزدوروں کے زبردست ہمدردوں میں سے کسی کو ڈکٹیٹر شپ دینا ضروری ہے۔وہ جب عوام کو منظم کرلے ، مزدوروں ۱۷