انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 426

خدام الاحمدیہ سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ سنتیں ، آپ کی تقریریں سنتیں ، آپ کی خدمت اسلام کو دیکھتیں ، آپ کے اُس سلوک کو دیکھتیں جو آپ بنی نوع انسان سے کیا کرتے تھے تو ان کی محبت جنون کی حد تک پہنچ جاتی اور وہ ہر چیز کو بھول کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آکر کہہ دیتیں يَا رَسُولَ اللهِ ! ہم آپ سے شادی کرنے کے لئے تیار ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر ایک سے کس طرح شادی کر سکتے تھے آپ ان سے فرماتے کہ تم مجھے اپنے متعلق اختیار دے دو اور جب وہ اختیار دے دیتیں تو آپ ان کا کسی اور مناسب شخص سے نکاح کر دیتے اس قسم کا کوئی ایک واقعہ نہیں ہوا بلکہ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں کہ مجلس لگی ہوئی ہوتی اور عورت آکر کہہ دیتی کہ يَا رَسُولَ اللهِ! میں آپ سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں قرآن نے بھی ان کی اس محبت کو بُرا نہیں سمجھا بلکہ فرمایا ہم تمہارے اس فعل کو بُر انہیں سمجھتے مگر ایسا صرف ہمارے رسول کو کہنا جائز ہے اور کسی کو تم ایسا نہیں کہ سکتیں اور گو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر ایسی عورتوں میں سے کسی ایک سے بھی شادی نہیں کی تا کہ لوگ اس سے کوئی غلط نتیجہ نہ نکال لیں مگر قرآن نے اُن عورتوں کو بُرا نہیں کہا بلکہ اسے اُن کے روحانی عشق کا مظاہرہ قرار دیا ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جو سارا دن بناؤ سنگھار کرتے رہتے ہیں اُن کو ایسی فدائی عورتیں کہاں ملتی ہیں۔پس در حقیقت مرد کا حسن اُس کے کام میں ہے ظاہری بناؤ سنگھار میں نہیں۔مشہور ہے کہ عبدالرحیم خان خاناں جو ایک بہت بڑے جرنیل اور بڑے بہادر اور سخی گزرے ہیں انہیں ایک عورت نے لکھا کہ میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔عبدالرحیم خان خاناں نے لکھا کہ مجھے آپ اس بات میں معذور سمجھیں۔وہ عورت کسی اچھے خاندان میں سے تھی اس نے پھر لکھا کہ میں تو مر رہی ہوں اور چاہتی ہوں کہ آپ سے ضرور شادی کروں انہوں نے پوچھا کہ آخر مجھ سے شادی کرنے سے تمہاری غرض کیا ہے؟ وہ کہنے لگی میں نے آپ کے اخلاق ، آپ کی شجاعت اور آپ کی سخاوت کو دیکھا ہے اور میرا جی چاہتا ہے کہ میری بھی ایسی ہی اولاد ہو۔عبدالرحیم خان خاناں لطیفہ سنج تھے انہوں نے اُسے لکھا بیگم ! یہ تو ضروری نہیں کہ اگر تم مجھ سے شادی کرو تو میری اولا د ضرور میرے جیسی ہی پیدا ہو ہاں چونکہ تم کو میرے جیسی اولاد کی خواہش ہے اسلئے میں آج سے آپ کا بیٹا ہوں اور آپ میری ماں ہیں جو خدمت میں اپنی ماں کی کیا کرتا ہوں آئندہ وہی خدمت میں آپ کی کیا کرونگا۔تو دیکھو یہ اخلاق کا ہی نتیجہ تھا وہ چونکہ اچھے اخلاق والا انسان تھا اس لئے اُس نے قلوب پر اثر ڈال لیا تو ظاہری بناؤ سنگھار کی بجائے اچھے اخلاق دلوں پر اثر کیا کرتے ہیں اور اگر جسمانی لحاظ سے دیکھو تو پھر بھی جو