انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 418

خدام الاحمدیہ سے خطاب انوار العلوم جلد ۱۶ رہا ہوں پس ہر سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ اُسے مزیدار لگتا ہے، ہر رکوع میں اسے مزہ آتا ہے، ہر سجدہ میں اسے لذت آتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے خدا کو بلا وا بھیج رہا ہوں۔اُس کا سُبْحَانَ رَبِّيَ الأغلى کہنا کیا ہوتا ہے؟ ایک خط ہوتا ہے ایک چٹھی ہوتی ہے جو وہ اپنے خدا کے پاس بھیجتا ہے اور اس سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اس کی مدد کے لئے آئے جیسے مچھلیاں پکڑنے والے دریا میں گنڈیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں اور اگر ذرا بھی رہی ملتی ہے تو اُن کا دل دھڑ کنے لگ جاتا ہے کہ آگئی مچھلی۔اسی طرح جب ایک مؤمن تسبیح کرتا ہے تو اُس کا دل دھڑ کنے لگ جاتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ اس کے نتیجہ میں میرا رب مجھ سے ملنے کے لئے آجائے گا۔غرض انسان اگر چاہے تو اپنے ہر کام کو دلچسپ بنا سکتا ہے اور در حقیقت یہ صرف خیالات بدلنے کی بات ہوتی ہے۔اگر ہم ضرورت اور اہمیت کو سمجھ لیں تو ہر چیز کو دلچسپ بنا سکتے ہیں پس علمی اور اخلاقی مقابلے بھی دلچسپ بنائے جاسکتے ہیں اور میں خدام الاحمدیہ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آئندہ وہ ایسے اجتماع کے موقع پر اس قسم کے مقابلے ضرور رکھا کریں۔اسی طرح ہر سال اس قسم کے سوالات بھی کرنے چاہئیں کہ بتاؤ اس سال قرآن کریم کی سورتیں کس کس نے حفظ کی ہیں اور کتنی حفظ کی ہیں؟ پھر جو شخص سب سے زیادہ قرآن کریم حفظ کرنے والا ثابت ہو اُسے انعام دیا جائے۔اسی طرح احادیث کے متعلق سوال کیا جائے کہ اس سال کتنی احادیث حفظ کی گئی ہیں؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کے متعلق سوال کیا جائے کہ وہ کتنی پڑھی گئی ہیں؟ اس طرح نو جوانوں میں علمی مذاق ترقی کرے گا اور ہر سال ان کو یہ تحریک ہوتی چلی جائے گی کہ وہ مذہبی اور اخلاقی امور کی طرف توجہ کریں نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کا دین بھی ترقی کرے گا تبلیغ بھی ترقی کرے گی اور اسلامی مسائل کی حقیقت بھی ان پر زیادہ واضح ہو جائے گی۔اسی طرح قرآن کریم کے ترجمہ کے متعلق ہر سال سوال کرنا چاہئے کہ خدام میں سے کتنے ہیں جنہیں سارے قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے؟ فرض کرو اس وقت مقامی اور بیرونی خدام آٹھ نو سو کے قریب ہیں تو ان سب سے دریافت کیا جا سکتا ہے کہ ان میں کتنے ہیں جنہیں سارے قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہے بلکہ یہ سوال میں اسی وقت کر لیتا ہوں تا کہ معلوم ہو کہ کتنے نوجوان سارے قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں (اس کے بعد حضور نے تمام خدام سے فرمایا کہ قادیان کے رہنے والوں میں سے جو نوجوان سارے قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہوں وہ کھڑے ہو جائیں اس پر ۱۵۲ نو جوان کھڑے ہوئے۔پھر حضور نے فرمایا بیرونی خدام میں سے جن کو سارے قرآن کریم کا ترجمہ آتا ہو وہ کھڑے ہو جائیں