انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 20

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) ایسی خلاف واقعہ رپورٹیں خود اخبار کے لئے مضر ہوتی ہیں اور چونکہ متواتر اس نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اس لئے میں نے اس کی علانیہ تردید کرنی ضروری سمجھی ہے۔چنانچہ پہلے تو میری خواب کا ذکر کرتے ہوئے اس نے جہازوں کی تعداد اٹھائیس سو کی بجائے چوبیس سو لکھ دی۔اسی طرح لکھ دیا کہ وہ دورانِ گفتگو میں اپنی ذات کے متعلق ہی باتیں کرتے رہے اور اب اس نے ہمارے اصول پر حملہ کر دیا۔خواہ یہ حملہ دیدہ دانستہ ہو اور خواہ بے وقوفی کے نتیجہ میں بہر حال افسوسناک ہے۔مجھے افسوس ہے کہ رسول کا رویہ ہمیشہ ہمارے خلاف ہوتا ہے حالانکہ سٹیٹسمین “ نے کبھی اس قسم کی شکایت کا موقع پیدا ہونے نہیں دیا۔بہر حال یہ بات چونکہ ہمارے اصول کے خلاف تھی اس لئے میں نے اس کی تردید کرنی ضروری سمجھی۔ورنہ ہمیں نہ رسول کے جھوٹ کی پرواہ ہے اور نہ ہم اس کے نمائندوں کی کوئی حقیقت سمجھتے ہیں۔اب میں اس مضمون کو شروع کرتا ہوں جس کے نوٹ اس موقع پر بیان کرنے کے لئے میں نے لکھے ہوئے ہیں۔مجھے اس دفعہ افسوس کے ساتھ اس شکایت کا علم ہوا ہے کہ بجائے اس کے کہ یہاں آکر مہمانوں میں عبادت اور ذکر الہی کے متعلق زیادہ مُستعدی پیدا ہوتی مساجد میں ان کی حاضری بہت کم ہو گئی ہے۔ایک دن تو نماز کے وقت مسجد مبارک میں اتنی قلیل حاضری تھی کہ مسجد کا ایک حصہ خالی نظر آ رہا تھا حالانکہ اس سے پہلے تمام مسجد بھر جایا کرتی تھی پھر مسجد کا چھت لوگوں سے بھر جاتا تھا اور پھر گلیوں میں بھی دُور دُور تک لوگ صفیں باندھ کر نماز پڑھنے پر مجبور ہو جاتے تھے اور وہ صفیں مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ تک پہنچ جایا کرتی تھیں۔مگر اس دن جب میں نے نماز ختم کی تو مسجد کے نچلے حصہ میں بھی ابھی ایک دو سطر میں باقی تھیں۔حالانکہ مسجد کا نچلا حصہ صرف قادیان کے رہنے والوں سے ہی بھر جایا کرتا تھا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ مہمانوں نے ایک اعلیٰ درجہ کی عبادت بجالانے میں سُستی سے کام لینا شروع کر دیا ہے حالانکہ مسجد مبارک وہ ہے جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہے کہ جو کام بھی اس جگہ کیا جائے گا وہ مبارک ہوگا۔اگر کوئی شخص قادیان آ کر بھی فائدہ نہیں اُٹھاتا نہ وہ مسجد میں نماز کے لئے حاضر ہوتا ہے اور نہ ہی سلسلہ کی ترقی کے لئے دعائیں کرتا ہے تو اس کا آنا اپنے اندر کوئی معنے نہیں رکھتا۔پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ نیکی کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور اپنی نستی اور غفلت سے انہیں ضائع نہ کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ تو نیکیوں کے حصول کے لئے ایسے بے تاب رہتے تھے کہ ایک دفعہ