انوارالعلوم (جلد 16) — Page 314
سیر روحانی (۳) انوار العلوم جلد ۱۶ الف کو بغیر حساب کے ملے گا تو ب کو بھی بغیر حساب کے ملے گا اور ج کو بھی بغیر حساب کے ملے گا اور ظاہر ہے کہ جب سب کو بغیر حساب کے انعام ملے تو یہ کسی کے حق کو زائل نہیں کرتا بلکہ سب کا درجہ بڑھاتا ہے۔لیکن جب خدا تعالیٰ نے کہا کہ انعام حساب سے ملے گا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ کسی کا درجہ کم نہ ہوگا بلکہ اسی حساب سے ہر ایک کو زیادہ ملے گا پس اس کے یہ معنے ہوئے کہ جنتیوں کو ان کے اعمال کے مقابلہ میں بغیر حساب زیادہ ملے گا اور ان کے محدود اعمال کو مد نظر نہیں رکھا جائے گا، لیکن یہ بغیر حساب ایک حساب کے ماتحت بھی ہوگا اور اس امر کا لحاظ رکھا جائے گا کہ نمبر ۲ نمبر اول سے نہ بڑھ جائے اور جب ہر ایک کو بغیر حساب یعنی استحقاق سے بہت زیادہ ملنا ہے تو ظاہر ہے کہ نمبر ٢ نمبر ایک سے بڑھ ہی نہیں سکتا کیونکہ اسے بھی بغیر حساب ملے گا۔خلاصہ یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے بغیر حساب کہا تو اس کے معنی ہیں اپنے عمل کے مقابل پر۔اور جب حساب سے کہا تو اس کے معنے یہ ہیں کہ اپنے سے اوپر والے نمبر کے مقابل پر۔یعنی ہر ایک کے درجہ کو قائم رکھا جائے گا اور نمبر اول والا دوم نہیں ہو گا اور دوم اول نہیں ہوگا اور ایک کا درجہ دوسرا نہیں لے سکے گا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے ایک شخص کے پاس ایک کروڑ روپیہ ہو، دوسرے شخص کے پاس دو کروڑ روپیہ ہوا اور تیسرے کے پاس تین کروڑ روپیہ ہو۔اب اگر کوئی دوسرا شخص یہ فیصلہ کرے کہ سب کو ایک ایک کروڑ اور روپیہ دید یا جائے تو لازماً سب کا مال بڑھ جائے گا اور جو درجہ ان کا قائم ہو چکا تھا اس میں بھی کوئی نقص واقعہ نہیں ہوگا درجہ اول والا پھر بھی درجہ اول میں ہی شمار ہو گا اور درجہ دوم اور سوم والے پھر بھی دوم اور سوم درجوں میں ہی شمار ہوں گے۔پس جہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ مؤمنوں کو حسابی عطا ملے گی وہاں یہ مطلب ہے کہ جنتیوں کے درجے نہیں توڑے جائیں گے اور جہاں یہ فرمایا کہ بغیر حساب کے رزق دیا جائے گا تو وہاں یہ مفہوم ہے کہ عمل کی نسبت جزا ئیں بہت زیادہ ہونگی۔پس ہر ایک کا مقام قائم رہے گا اور کسی کا بھی ریکارڈ خراب نہیں ہوگا۔یہ نہیں ہو گا کہ مثلاً اگر اکبر کا مقبرہ پہلے درجہ پر ہے اور شاہجہان کا مقبرہ دوسرے درجہ پر ، تو شاہجہان کا مقبرہ اکبر سے بڑھ جائے بلکہ اللہ تعالیٰ اگر شاہجہان کو کبھی زیادہ انعام دے گا تو ساتھ ہی اکبر کو بھی اور دے گا اور فرمائے گا اس کے مقبرہ کو اور اونچا کرو تا کہ تفاوت مراتب قائم رہے۔غرض بغیر حساب کے الفاظ بتاتے ہیں کہ عمل کے مقابلہ میں جزاء زیادہ ہو گی اور عَطَاءً حِسَابًا کے الفاظ بتاتے ہیں کہ نمبر تو ڑ کر نچلے درجہ والے کو اوپر نہیں لے جایا جائے گا۔