انوارالعلوم (جلد 16) — Page 297
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) کہا ہے جو کچھ تھا اور جن بزرگوں کا مقبرہ بنا ہوا تھا وہ بھی ہماری شریعت کے خلاف تھا۔کتوں کے مقبرے پس مجھے حیرت ہوئی کہ یہ نظارے دنیا میں نظر آتے ہیں کہ اول تو ظاہری لحاظ سے ادنیٰ و اعلیٰ میں کوئی نسبت ہی نہیں اور اگر ہے تو وہ دین اور دنیا کے سراسر خلاف ہے۔پھر جب میں نے بعض جگہ گتوں کے مقبرے بھی دیکھے تو میں اور زیادہ حیران ہوا کیونکہ گتوں کے مقبرے ہندوستان کے اکثر بزرگوں کے مقبروں سے بھی بہت اعلیٰ تھے۔میں نے سوچا کہ یہ مقبرے بیشک عبرت کا کام تو دیتے ہیں مگر انصاف اور حقیقت ان سے ظاہر نہیں ہوتی اور انسان ان شخصیتوں کا غلط اندازہ لگانے پر مجبور ہوتا ہے حالانکہ مقبرہ کی غرض یہ ہوتی ہے کہ مرنے والے کے حقیقی مقام کی حفاظت کی جائے اور مقبرہ کے ذریعہ اس کے اعمال کے نشان کو قائم رکھا جائے ، اس سے زیادہ مقبرہ کی کوئی غرض نہیں ہوتی۔مگر یہ غرض ان مقبروں سے ظاہر نہیں ہوتی اور بجائے اس کے کہ انصاف اور حقیقت ان سے ظاہر ہو وہ انسانی شخصیتوں کا غلط اندازہ پیش کرتے ہیں اور بجائے علم دینے کے دوسروں کو جہالت میں مبتلاء کرتے ہیں۔مقبروں کی عمارات سے صرف چار امور کا علم پس میں نے سمجھا کہ یہ مقبرے زیادہ سے زیادہ ان باتوں پر دلالت کر سکتے ہیں:۔اوّل: اس وقت عمارت کا فن کیسا ہے یعنی مرنے والوں کو ان مقبروں کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا صرف یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ اُس وقت عمارتیں کیسی بنتی تھیں۔دوم: مرنے والے یا اس کے رشتہ دار کے پاس کس قدر مال تھا۔یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بادشاہ اچھا تھا یا بُرا ، عالم تھا یا جاہل ، البتہ یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ اس کے یا اس کے رشتہ داروں کے پاس کس قدر روپیہ تھا۔سوم: مرنے والے یا اس کے پس ماندگان کا تعمیر مقبرہ کے متعلق کیا عقیدہ یا رجحان تھا یعنی ان مقبروں سے صرف اتنا معلوم ہو سکتا ہے کہ مرنیوالے یا اس کے پس ماندگان کا عقیدہ کیا تھا آیا اُن کے نزدیک اس قسم کا مقبرہ بنانا جائز تھا یا نہیں۔چہارم : ان مقبروں سے ہمیں یہ بھی پتہ لگ سکتا ہے کہ بعد میں آنے والے لوگوں کو ان کے لُوٹنے سے کس قدر دلچسپی تھی یا یوں کہو کہ ان کے لئے اس میں دلچسپی کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ اسے باقی رہنے دیا جائے۔چنانچہ کئی مقبرے ٹوٹے ہوئے نظر آتے ہیں اور معلوم ہوتا