انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 252

انوار العلوم جلد ۱۶ نہیں سننا چاہتے۔) بعض اہم اور ضروری امور اور اگر جماعت سننا نہیں چاہتی تو ہم نے کونسا ان کا قرض دینا ہے کہ ان کو ضرور موقع دیں۔اور اس طرح سال میں تین دن قادیان میں گزارنے اور میری اور سلسلہ کے علماء کی تقریریں سننے کا جو موقع دوستوں کو ملتا ہے وہ انکی نذر کر دیں۔لکھا مولوی محمد علی صاحب ہم سے تو یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر ان کو تقریریں کرنے کا موقع دیں لیکن اپنی وسعت قلبی کا یہ حال ہے کہ جب ”الفضل میں میرا مضمون ان کے مضمون کے جواب میں شائع ہوا تو میں ڈلہوزی میں تھا۔میں نے ”الفضل“ کا وہ پرچہ دے کر عزیزم خلیل احمد صاحب ناصر بی۔اے اور ایک نوجوان کو بھیجا کہ جا کر مولوی صاحب کے لڑکے کو دے آئیں اور ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ میرا خیال ہے کہ وہ نہیں لے گا۔وہ لے کر گئے تو اس نے پرچہ لینے سے انکار کر دیا تو اپنے بیٹے کے اخلاق تو یہ ہیں کہ اخبار کا پرچہ تک لینے سے انکار کر دیا مگر خود شور مچا رہے ہیں کہ میں ان کے خیالات سننے سے اپنی جماعت کے لوگوں کو روکتا ہوں۔ایک اور بداخلاقی مولوی صاحب نے یہ دکھائی ہے کہ قادیان کی جماعت کے متعلق لکھ ہے کہ میں اپنے خیالات ان کو تو سنا نا نہیں چاہتا بلکہ باہر کے لوگوں کو سنانا چاہتا ہوں اور لکھا ہے:۔ان کی جماعت وہ تو نہیں جو قادیان میں ہے۔وہ تو ان کے ملازمین اور ایسے لوگ ہیں جن کی ضروریات ان سے وابستہ ہیں۔جماعت تو وہ چیز ہے جو اس سلسلہ کو قائم رکھنے والی ہے بیرونی لوگ جو جلسہ پر آتے ہیں اصلی جماعت وہ ہیں۔“ یہ وہی چالا کی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں مہاجرین اور انصار کو باہم لڑانے کے لئے منافقین کیا کرتے تھے۔مولوی صاحب نے سمجھا کہ یہ جماعت بیوقوف ہے۔جب میں کہوں گا کہ قادیان کی جماعت تو اصل جماعت نہیں تو باہر والے خوش ہوں گے اور کہیں گے کہ مولوی صاحب نے ہماری تو تعریف کر دی ہے لیکن انہیں پتہ نہیں کہ جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے اس دھو کے میں آنے والی نہیں اور ہمارے دوست انہیں خوب سمجھتے ہیں۔جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔بہر من رنگے کہ خواہی جامه می پوش انداز قدت را می شناسم یعنی تم خواہ کسی قسم کا لباس پہن کر آؤ میں چال سے اور قد کے اندازے سے سمجھ جاتا ہوں