انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 5

انوار العلوم جلد ۱۶ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۰ء پھر ان ایام کا نہایت اہم کام جلسہ کی تقریروں کا سننا ہے مگر کئی دوست اُس وقت جب کہ تقریریں ہو رہی ہوتی ہیں اِدھر اُدھر پھرتے اور وقت ضائع کرتے ہیں۔میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں اور زیادہ سے زیادہ جلسہ سے فائدہ اُٹھا ئیں۔خود بھی تقریریں سنیں اور اپنے دوستوں کو بھی سننے کے لئے کہیں۔میں اس موقع پر مبلغین اور علماء کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اپنی تقریروں میں اخلاص اور ہمدردی کو مدنظر رکھیں۔کوئی چبھتا ہوا یا سخت لفظ استعمال نہ کریں۔بے شک اعتراضات کے جواب دیئے جائیں مگر جواب اپنے اندر اخلاص اور محبت رکھتا ہو۔ایسے درد اور خیر خواہی کے ساتھ ہو کہ معترض بھی اسے محسوس کرے اور اگر کوئی سخت سے سخت دل ہو تو بھی صداقت کی گرمی سے متاثر ہو کر حق قبول کر لے۔اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں۔آؤ ہم سب مل کر دعا کریں کہ خدا تعالیٰ پہلے جلسوں سے زیادہ اس جلسہ سے فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔پہلے اگر کچھ زنگ ہمارے دلوں پر باقی رہ گیا ہے تو اب ہمارے قلوب کو صاف کر دے ، ہمیں اپنے چنیدہ بندوں میں شامل کرے، اپنی اطاعت اور فرمانبرداری میں آگے ہی آگے بڑھنے ، تیز سے تیز قدم اُٹھانے اور بڑی سے بڑی برکتیں حاصل کرنے کا مستحق بنائے ، ہماری اولادوں کو سلسلہ کے وقار کو قائم رکھنے کے قابل بنائے انہیں ہر قسم کے فتنہ اور شر سے بچائے۔پھر نہ صرف اپنے لئے ، نہ صرف اپنے خاندان کے لئے، نہ صرف جماعت احمدیہ کے لئے بلکہ تمام دنیا کے لئے مفید بنائے وہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے اعلیٰ سے اعلیٰ ہتھیار ثابت ہوں۔پھر نہ صرف ہمیں اور ہماری اولاد کو بلکہ ایک لمبے سلسلہ کو ایسے پاک مظاہر بنائے کہ وہ دینِ اسلام اور احمدیت کے لئے عزت اور وقار کا موجب بنیں اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے والے ہوں۔آمین۔لے تذکرہ صفحہ ۵۰۔ایڈیشن چہارم ( الفضل ۳۱ ؍ دسمبر ۱۹۴۰ء )