انوارالعلوم (جلد 16) — Page 144
اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُولُو الامر تھے ، حضرت ابوبکر بھی اُولُو الامر تھے ، حضرت عمرؓ بھی اُولُو الامر تھے ، حضرت عثمان بھی اُولُو الامر تھے اور حضرت علی بھی اُولُو الامر تھے۔اگر کسی شخص کے اُولُو الا مر ہونے کی وجہ سے یزید کا نام اس کے لئے استعمال کرنا کوئی شخص جائز سمجھتا ہے تو وہ اپنی عاقبت کو خراب کرتا ہے۔اور ان کو گالی دیتا ہے جن کے آگے خدائے قہار بطور ڈھال کھڑا ہے۔مولوی صاحب نے جن رفقائے کار کے اوپر والے اسلامی نمونہ کی تشریح فرمائی ہے مضمون نامکمل رہے گا اگر میں ان کی تحریروں کے بعض اقتباس بھی پیش نہ کروں۔ان کی انجمن کے ایک معزز رکن اور مدعی الہام مولوی محمد یامین صاحب دا توی تھے انہوں نے اس مضمون پر دارالخلافہ دمشق ( یعنی قادیان موجودہ ) کے عنوان کے نیچے یوں خامہ فرسائی فرمائی ہے۔” بے شک قادیان دمشق ہے اور قادیان کے پیدا شدہ اکثر یزیدی ہیں اور جہاں یزیدی ہوں وہاں ایک خلیفہ یزید کا ہونا بھی ضروری ہے اور الہامات پر بھی ایمان لانا ضروری ہے کہ جس طرح شامی دمشق میں دوسرا خلیفہ یزید تھا یہاں بھی اس دمشق میں دوسرا ہی خلیفہ یزید از روئے حدیث نبوی و الہام مسیح موعود اور واقعات چشم دید سے کہلایا۔اور جس طرح پہلے یزید کا باپ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تھا۔خلیفہ تھا ایسا ہی یزید ثانی کا باپ بھی خلیفہ ہی تھا۔اور جس طرح پہلے یزید کی خلافت میں ایک خلیفہ (علی) کے بیٹے کی جان ضائع ہوئی ویسے ہی اس خلافت کے ایام میں بھی ایک خلیفہ برحق کے بیٹے کی جان ضائع ہوئی۔۔1766 اس حوالہ سے مندرجہ ذیل امور ظاہر ہیں :- اول۔لکھنے والے کے نزدیک اکثر باشندے قادیان کے (اور یہ احمدی ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ وہی یہاں کی اکثریت ہیں ) یزیدی ہیں۔ہاں مضمون نگار نے اکثر کا لفظ استعمال فرما کر اپنے اعلیٰ اخلاق کو قائم رکھنے کے لئے غیر احمد یوں، ہندوؤں اور سکھوں کو مستی کر لیا ہے تا ان کے حق میں بے انصافی نہ ہو جائے۔دوم۔احمدیوں کا خلیفہ دوم یزید ثانی ہے۔سوم۔اس نے ایک خلیفہ برحق (یعنی حضرت خلیفہ اول) کے ایک لڑکے کو مروا دیا۔(یعنی