انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 118

احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن۔انوار العلوم جلد ۱۶ زبر دست نوجوان ہونے کی بجائے ایک چھوٹا سا بچہ ہوتا ، اُس کی پیٹھ میں خم ہوتا، اس کے سینہ میں گڑھا پڑا ہوا ہوتا ، اس کی گردن ڈیلی پتلی ہوتی ، اس کی ناک سے رال بہہ رہی ہوتی اور وہ کہتا مارلو تو مجھ پر کچھ بھی اثر نہ ہوتا کیونکہ میں جانتا کہ اس میں مقابلہ کی طاقت ہی نہیں۔پس میں نے اگر جسمانی ورزش کی ہدایت دی ہے تو اس لئے کہ تمہاری قربانی دنیا کو سچی معلوم ہو یہ نہ ہو کہ تم ماریں بھی کھاؤ اور قربانی بھی کچی معلوم نہ ہو۔وہ مارلوگوں کے لئے ہدایت کا موجب بنتی ہے جو طاقت رکھتے ہوئے کھائی جائے مگر جو مار بُزدلی کی وجہ سے کھائی جائے اس سے حقارت اور نفرت بڑھتی ہے۔جب لوگ یہ سمجھیں کہ وہ ایک تھپڑ ماریں تو دوسرا دو تھپڑ مار سکتا ہے ، وہ اگر ایک گال پر خراش پیدا کریں تو دوسرا ان کے دانت نکال سکتا ہے، وہ اگر کھوپڑی پر چوٹ لگا ئیں دوسرا ان کے سر کو چھوڑ سکتا ہے تو اگر ایسی طاقت رکھنے والا انسان ایک کمزور انسان سے کہے کہ میں تم سے مار کھا لیتا ہوں تو دوسرے انسان کے دل پر ضرور چوٹ پڑتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ کوئی ایسی طاقت ہے جس نے اسے اتنی بڑی قربانی پر آمادہ کر دیا اور وہ سچائی کو قبول کر لیتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھو آپ نے مکہ میں صبر کیا اور ایسا صبر کیا جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔مگر لوگ کہہ سکتے تھے کہ نَعُوذُ باللهِ بُزدل ہے اس لئے لڑائی سے کنارہ کرتا ہے۔مگر پھر اللہ تعالیٰ آپ کو مدینہ میں لے گیا اور وہاں فوجوں کی کمان آپ کو کرنی پڑی اور ایسے ایسے مواقع آئے جن میں آپ کو اپنی بہادری کے جوہر دکھانے پڑے۔اُحد کے موقع پر ہی ایک شخص جو مکہ کا بہت بڑا جرنیل تھا آگے آیا اور اس نے کہا میں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے ہاتھ سے قتل کروں گا اس لئے میرے مقابلہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو ہی نکالا جائے۔صحابہ بڑے بہادر اور تجربہ کار تھے، وہ شمشیر زنی سے واقف تھے، وہ نیزہ بازی کو خوب جانتے تھے ، وہ لڑائی کے اصول اور فن کے ماہر تھے ، وہ سارے اس نیت سے کھڑے ہو گئے کہ ہم مر جائیں گے مگر اس شخص کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچنے نہیں دیں گے لیکن آپ نے فرمایا رستہ چھوڑ دو۔صحابہ نے آپ کے حکم کے ماتحت رستہ خالی کر دیا۔اس پر یہ جرنیل شیر کی طرح گر جتا ہوا آپ کے مقابلہ میں آیا۔آپ نے اپنا نیزہ بڑھا کر اُس پر وار کیا اور اُس کی گردن پر ایک معمولی سا زخم لگا دیا وہ اُسی وقت چیخ مار کر واپس کوٹ گیا۔لوگوں نے اُس سے کہا کہ تم نے یہ کیا کیا ؟ یا تو اس بہادری سے حملہ کرنے کے لئے گئے تھے اور یا اس بُزدلی کے ساتھ واپس بھاگ آئے اور پھر تمہارا تو زخم بھی کوئی بڑا نہیں اُس نے کہا بے شک