انوارالعلوم (جلد 16) — Page 89
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) دیکھا ہے قریب سے قریب سبزی طائف میں ہے اور طائف وہاں سے تین منزل کے فاصلہ پر ہے باقی چاروں طرف بے آب و گیاہ جنگل کے سوا کچھ نہیں ، نہ غلہ پیدا کیا جاسکتا ہے اور نہ اسے جمع کرنے کے کوئی سامان ہیں۔اس قلعہ کے ارد گرد کوئی جنگل نہیں تھا (۴) چوتھے یہ امر مدنظر رکھا جاتا ہے کہ گر دو پیش جنگل ہو تا کہ ایندھن مل سکے اور دشمن پر حملہ میں آسانی ہو مگر میں نے اس قلعہ کو دیکھا کہ میلوں میل تک اس کے پاس جنگل چھوڑ درخت تک بھی کوئی نہیں۔یہ روحانی قلعہ اونچے مقام کی بجائے نشیب مقام میں بنایا گیا (0) پانچویں اگر پہاڑی پاس ہو تو قلعہ اونچی جگہ پر بنایا جاتا ہے مگر یہ قلعہ ایسا ہے کہ اس کے پاس ”حراء “ اور ” نور“ دو پہاڑیاں ہیں، لیکن یہ قلعہ نشیب میں بنایا گیا ہے اور اس طرح دشمن پہاڑوں پر قبضہ کر کے اسے شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔اسکتا۔اس قلعہ کی تعمیر میں معمولی گارا اور پتھر استعمال کئے گئے (۲) چھٹے یہ مر مد نظر رکھا جاتا ہے کہ قلعہ کی تعمیر عمدہ مصالحہ سے ہو مگر اس قلعہ کی تعمیر نہایت معمولی مصالحہ اور گارے وغیرہ سے ہے۔اس قلعہ کے ارد گرد کوئی فصیل نہیں (۷) ساتویں یہ امر مدنظر رکھا جاتا ہے کہ قلعہ کی تعمیر اس طرح ہو کہ شہر کی حفاظت ہو سکے اور فصیلیں دُور تک پھیلی ہوئی ہوں مگر یہ عجیب قلعہ ہے کہ شہر ار در گرد ہے اور قلعہ شہر کے بیچوں بیچ ہے اور فصیل کا نام ونشان نہیں جس کی وجہ سے شہر کی حفاظت میں وہ کوئی مدد نہیں دے سکتا۔اس قلعہ کے چاروں طرف کھلے راستے پائے جاتے ہیں (۸) آٹھویں بات یہ مد نظر رکھی جاتی ہے کہ اس کی طرف آنیوالے راستے ایسے ہوں کہ حسب ضرورت بند کئے جاسکیں مثلاً تنگ وادیوں میں سے گزاریں مگر اس قلعہ کے راستے نہایت کُھلے اور بے روک ہیں۔قرآن کریم خود فرماتا ہے عَلى كُلِّ ضَامِرٍ يَّأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ۱۲ کہ اس قلعہ کی طرف لوگ دوڑے چلے آتے ہیں اور انہیں آنے میں کسی قسم کی روک نہیں۔