انوارالعلوم (جلد 16) — Page 79
سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ اور عبادت الہی بجالاتے ہیں اور یہی کام سب انبیاء کی جماعتیں کرتی ہیں۔ایک جتھا ذکر الہی کے لئے بن جاتا ہے اور وہ عبادت کے معاملہ میں ایک دوسرے سے تعاون کرتا ہے جو اکیلے اکیلے انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔مسلمانوں میں بھی یہی طریق رائج تھا بعض بعض کو پڑھاتے تھے اور بعض دوسروں کو لوگوں کے ظلموں سے بچاتے تھے جیسے حضرت ابو بکر نے بہت سے غلام آزاد کئے اگر وہ لوگ متفرق ہوتے تو یہ فائدہ نہ ہو سکتا۔قومی ترقی کیلئے اجتماعی کاموں کی تلقین (ب) مساجد کا شہر یوں کو دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اجتماعی عبادت کا کام دیتی ہیں۔یہ کام بھی انبیاء کی جماعت کا ہوتا ہے اور مسلمانوں نے کیا۔مثلاً وہ چندے جمع کر کے غرباء کی خدمت کرتے ، اکٹھے ہو کر جہاد کرتے ، اسی طرح قوم کی ترقی کے لئے اقتصادی اور علمی کام سرانجام دیتے۔أمر بالمعروف اور نی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دینے والاگروہ (1) دسواں کام مساجد کا یہ بتایا کہ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ یعنی مساجد میں ایسے لوگ رہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے وقف ہوتے ہیں مسلمانوں نے یہ نمونہ بھی دکھایا چنانچہ قرآن کریم میں حکم ہے وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ أُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ کہ تم میں ایک ایسی امت ہونی چاہئے جو لوگوں کو خیر کی طرف بُلائے ، انہیں نیک باتوں کا حکم دے اور انہیں بُری باتوں سے روکے، یہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔اس حکم کے مطابق مسلمانوں میں ایک جماعت ایسے لوگوں کی تھی جن کا دن رات یہی کام تھا مثلاً حضرت عبداللہ بن عمرؓ، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت ابو ذر غفاری ، حضرت سلمان فارسی، حضرت ابو ہریرۃ اور حضرت انس بن مالک وغیرہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں اس غرض کے لئے وقف کر دی تھیں اور ان لوگوں کا کام صبح و شام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علم دین سیکھنا اور اسے لوگوں تک پہنچانا تھا۔ان کے علاوہ وہ لوگ بھی تھے جو گو کچھ دُنیوی کام بھی کرتے تھے مگر اکثر وقت اسی کام میں لگے رہتے تھے۔ان میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم شامل تھے۔ان لوگوں نے ایسے کٹھن اور صبر آزما