انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 77

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ بیوی کہنے لگی کہ میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی ہے اور وہ یہ کہ جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو میں اور تم دونوں اس کے ساتھ بیٹھ جائیں گے اُس وقت تم مجھے کہنا کہ روشنی کم ہے فتیلہ ذرا اوپر کر دو۔اور میں روشنی کو تیز کرنے کے بہانے سے اُٹھوں گی اور چراغ کو بجھا دونگی تا کہ اند ھیرا ہو جائے اور وہ دیکھ نہ سکے کہ ہم اس کے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں یا نہیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔دستر خوان بچھا تو خاوند کہنے لگا روشنی کچھ کم ہے ذرا اونچی کر دو۔بیوی اٹھی اور اُس نے چراغ کو بجھا دیا۔جب اندھیرا ہو گیا تو خاوند کہنے لگا آگ سلگاؤ اور چراغ روشن کرو۔بیوی نے کہا آگ تو ہے نہیں ، اُس نے کہا ہمسایہ سے مانگ لو۔اُس نے کہا اس وقت ہمسائے کو کون جاکر تکلیف دے بہتر ہے کہ اسی طرح کھا لیا جائے۔مہمان بھی کہنے لگا اگر اندھیرا ہو گیا ہے تو کیا حرج ہے اسی طرح کھانا کھائیں گے۔چنانچہ اندھیرے میں ہی میاں بیوی اس کے قریب بیٹھ گئے اور مہمان نے کھانا کھانا شروع کر دیا۔خاوند اور بیوی دونوں نے چونکہ مشورہ کیا ہوا تھا اس لئے مہمان تو کھاتا رہا اور وہ دونوں خالی منہ ہلاتے رہے اور یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویا وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں۔خیر کھا ناختم ہوا اور مہمان چلا گیا۔اللہ تعالیٰ کو ان دونوں میاں بیوی کی یہ بات ایسی پسند آئی کہ رات کو اللہ تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر دیدی۔جب صبح ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا لوگو! کچھ پتہ بھی ہے کہ رات کو کیا ہوا ؟ صحابہ نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! ہمیں تو معلوم نہیں اس پر آپ نے یہ تمام واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ جب میاں بیوی دونوں اندھیرے میں بیٹھے خالی منہ ہلا رہے تھے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ ان کی اس حرکت پر عرش پر ہنسا۔پھر آ نے ہنتے ہوئے فرمایا جب اس بات پر اللہ تعالیٰ ہنسا ہے تو محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیوں نہ ہے۔کے اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ صحابہ مہمان نوازی کو کس قدر اہم قرار دیتے تھے اور کس طرح مسجدوں کی طرح ان کے گھر کے دروازے مہمانوں کے لئے کھلے رہتے تھے۔اسی طرح ایک واقعہ ہم نے بچپن میں اپنے کورس میں پڑھا تھا بعد میں اس کا پڑھنا کسی بڑی کتاب میں یاد نہیں۔وہ اس طرح ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی آیا جو بڑا ہی خبیث الفطرت تھا۔رات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے سونے کے لئے بستر دیا ، تو اُس نے دشمنی اور عداوت کی وجہ سے اس بستر میں پاخانہ پھر دیا اور علی الصبح اُٹھ کر چلا گیا مگر جاتے ہوئے وہ اپنی کوئی چیز بھول گیا۔جب صبح ہوئی تو کسی خادمہ