انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 46

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ اور ان کو کتاب اور حکمت سکھاتا ہے گویا خدا خود صحابہ کی پاکیزگی کی شہادت دیتا ہے۔دوسری جگہ ان کی پاکیزگی کی شہادت ان الفاظ میں دی گئی ہے کہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ الله تعالیٰ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ تعالیٰ۔راضی ہو گئے۔تیسری جگہ یہ شہادت اس طرح دی گئی ہے کہ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَنتَظِرُ یعنی یہ خدا کے اتنے نیک بندے ہیں کہ ان میں سے بعض تو اُس عہد کو جو انہوں نے خدا سے کیا تھا پورا کر چکے ہیں اور بعض گودل سے پورا کر چکے ہیں مگر ابھی عملی رنگ میں انہیں عہد کو پورا کر کے دکھانے کا موقع نہیں ملا اور وہ اُس وقت کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ انہیں بھی خدا کی طرف سے یہ موقع عطا ہو ، حدیثوں میں صحابہ کی اس قربانی کے متعلق ایک مثال بھی بیان ہوئی ہے جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے عہد کو کس طرح پورا کیا۔ایک صحابی کی عظیم الشان قربانی جب جنگ بدر کا موقع آیا تو صحابہ کو یہ احساس نہیں تھا کہ کوئی لڑائی ہونے والی ہے بلکہ خیال یہ تھا کہ ایک قافلہ کی شرارتوں کے سدباب کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے ہیں ، اسی لئے کئی صحابہ مدینہ میں بیٹھے رہے تھے اور ساتھ نہیں گئے مگر جب اسی لشکر کے باہر نکلنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفار کے لشکر سے بغیر امید کے جنگ ہو گئی اور کئی صحابہ نے قربانی کا بے مثال نمونہ دکھا یا تو جو لوگ اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے ان کے دلوں میں رشک پیدا ہوا۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک حضرت انس کے چچا تھے، جب کسی مجلس میں جنگ بدر کے کارناموں کا ذکر ہوتا اور شامل ہونے والے صحابہ کہتے کہ ہم نے یہ کیا ہم نے وہ رکیا تو پہلے تو وہ خاموشی سے سنتے رہتے مگر آخر وہ بول ہی پڑتے اور کہتے تم نے کیا کیا۔اگر میں ہوتا تو تم کو بتا تا کہ کس طرح لڑا کرتے ہیں۔صحابہؓ اس بات کو سنتے اور ہنس پڑتے مگر آخر خدا تعالیٰ نے اُن کی دعائیں سن لیں اور اُحد کا دن آ گیا۔اس جنگ میں مسلمانوں کی غفلت سے ایک وقت ایسا آیا کہ اسلامی لشکر تتر بتر ہو گیا اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گر د صرف گیارہ صحابی رہ گئے۔مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار تین ہزار تھے۔جب دشمن نے دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد صرف چند آدمی رہ گئے ہیں تو اُس نے یکدم حملہ کر دیا اور کفار کے لشکر کا ایسا ریلا آیا کہ اُن گیارہ آدمیوں کے بھی پاؤں اکھڑ گئے۔حملہ چونکہ سخت تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زخم آئے اور آپ کے خود کا ایک کیل آپ کے سر میں گھس گیا اور دندانِ مبارک بھی ٹوٹ کر۔