انوارالعلوم (جلد 16) — Page 534
บ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ہمیں اچھا کھانا کھانے کو ملتا ہے بلکہ آقا پہلے ہمیں کھلاتا ہے پھر خود کھاتا ہے گھر گئے تو معمولی روٹی ہی ملے گی اس لئے وہ آزادی کا مطالبہ ہی نہیں کرتے تھے۔پس گووہ غلام تھے مگر در حقیقت ان کے دل فتح ہو چکے تھے اور ایسے ہی تھے جیسے حضرت خدیجہ کے غلام زید بن حارثہ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کو آزادی پر ترجیح دی۔غلام سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی ہوئی تو کے حُسنِ سلوک کا نمونہ اور اس کا نتیجہ انہوں نے اپنی تمام دولت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے دی اور زید کو بھی جو ان کے غلام تھے آپ کے سپرد کر دیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو آزاد کر دیا۔حضرت زیڈ دراصل غلام نہیں تھے بلکہ ایک آزاد خاندان کے لڑکے تھے کسی ٹوٹ مار میں وہ قید ہو گئے اور ہوتے ہوتے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے۔ان کے باپ اور چچا دونوں ان کو تلاش کرتے کرتے مکہ میں آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ زیڈ کو ہمارے ساتھ بھیجا جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت زید کو آزاد کر چکے تھے آپ نے فرمایا میری طرف سے کوئی روک نہیں اگر یہ جانا چاہتا ہے تو بے شک چلا جائے۔انہوں نے زیڈ سے کہا کہ بیٹا! گھر چل تیری ماں روتی ہے اور اسے تیری جدائی کا سخت صدمہ ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی تجھے آزاد کر دیا ہے اور اجازت دے دی ہے کہ تو ہمارے ساتھ واپس چلا جا۔زیڈ نے کہا انہوں نے بے شک مجھے آزاد کر دیا ہے مگر میں دل سے ان کا غلام ہی ہوں اور اس غلامی سے الگ ہونا نہیں چاہتا۔باپ نے بہت منت سماجت کی اور کہا کہ دیکھ اپنی بوڑھی ماں کا خیال کر چچا نے بھی بہت کوشش کی اور کہا کہ ماں باپ سے بڑھ کر اور کون حُسنِ سلوک کر سکتا ہے ہمارے ساتھ چل ہم تجھے بڑی محبت سے رکھیں گے مگر حضرت زید نے کہا میں آپ کے ساتھ نہیں جاسکتا کیونکہ میرے ساتھ جو کچھ یہ سلوک کرتے ہیں اس سے بہتر سلوک دنیا کی کوئی ماں اور دنیا کا کوئی باپ نہیں کر سکتا۔اب بتاؤ کیا اس غلامی پر اعتراض ہو سکتا ہے؟ یا انسان کا دل تشکر و امتنان کے جذبات سے لبریز ہو جاتا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور وہ حیران ہو جاتا ہے کہ کیا دنیا میں دو