انوارالعلوم (جلد 16) — Page 493
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ہنے پر پہلے منشویک حکومت پر قابض ہوئے کیونکہ ملک کی دوسری پارٹیاں ان کی حکومت کو اپنے لئے زیادہ آرام دہ بجھتی تھیں پھر بالشویک نے ان کو دبا کر اپنی حکومت قائم کر لی۔بالشوزم کے چھ اقتصادی اصول اور اُن کے نتائج اب میں بتاتا ہوں کہ بالشویک کے اقتصادی اصول کیا ہیں؟ یا د رکھنا چاہئے کہ ان اقتصادی اصول کو وضع کرنے کا سب سے بڑا محرک یہی تھا کہ کسی طرح غریب اور امیر کا فرق جاتا رہے۔جس طرح بیمار ہونے پر ایک امیر کو دوا ملتی ہے اسی طرح غریب کو دوا ملے ، جس طرح امیر کو کپڑا میسر آتا ہے اسی طرح غریب کو پہننے کے لئے کپڑا میسر آئے ، جس طرح امیر پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہے اسی طرح ہر غریب پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور کوئی شخص بھوکا نہ رہے۔اسی طرح ظلم کم ہوں اور اقتصادی لحاظ سے غرباء کو جو دقتیں پیش آتی رہتی ہیں ان سب کا سد باب ہو اس غرض کے لئے بالشوزم نے جو اقتصادی اصول مقرر کئے وہ مارکس کے اصول کے مطابق یوں ہیں :- پہلا اصول اول جتنی کسی کی طاقت ہو اُس سے اُتنا ہی وصول کیا جائے۔فرض کرو ایک شخص کے پاس دس ایکڑ زمین ہے اور دوسرے کے پاس سو ایکڑ زمین ہے تو وہ یہ نہیں کریں گے کہ دس ایکڑ والے سے چند روپے لے لیں اور سو ایکڑ والے سے بھی چند روپے لے لیں بلکہ وہ دیکھیں گے کہ دس ایکڑ والے کی ضروریات کس قدر ہیں اور سو ایکڑ والے کی ضروریات کس قدر اور پھر جس قدر زائد روپیہ ہو گا اُس پر حکومت قبضہ کر لے گی مثلاً وہ دیکھیں گے کہ دس ایکڑ والا اپنی بیوی کو بھی کھلاتا ہے ، بچوں کو بھی کھلاتا ہے ، آپ بھی کھاتا ہے، بیلوں کو بھی کھلاتا ہے اور پھر اتنا روپیہ اس کے پاس بیچ رہتا ہے تو حکومت کہے گی کہ یہ روپیہ تمہارا نہیں بلکہ ہمارا ہے اسی طرح سو یا ہزار ایکڑ والے کی ضروریات دیکھی جائیں گی اور جس قدر زائد روپیہ ہو گا حکومت اسے اپنے قبضہ میں لے لے گی کیونکہ وہ کہتے ہیں ہمارا اصول یہی ہے کہ جتنا کسی کے پاس زائد ہو اس سے لے لو۔دوسرا اصول دوسرا اصول انہوں نے یہ مقرر کیا کہ جتنی کسی کو ضرورت ہو اس کو دیا جائے گویا پہلے اصول کے مطابق سو یا ہزار ایکڑ والے سے اُس کی زائد ۲۰