انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 488 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 488

۱۵ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو اور پیشہ وروں کو بھی زمینداروں کی طرح حُریت حاصل ہوگئی اور حکومت میں ایسے تغیرات پیدا کئے گئے جن کے نتیجہ میں تاجروں کی تکالیف دور ہوگئیں اور پیشہ وروں کو ملک میں اور زیادہ آسانیاں حاصل ہو گئیں۔سوشلزم یہ صورتِ حالات کچھ دیر تک قائم رہنے کے بعد ایک اور طبقہ کی نگاہیں اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے اُٹھیں اور اُس نے بھی اس غرض کے لئے جد وجہد شروع کر دی۔یہ طبقہ مزدوروں اور ملازم پیشہ لوگوں کا تھا جو کارخانوں اور دفتروں میں کا م کرتے تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ زمینداروں کو بھی ان کے حق مل گئے ، صناعوں کو بھی ان کے حق مل گئے اور تاجروں کو بھی انکے حق مل گئے تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے دُکھ کو تم محسوس نہیں کرتے اس لئے اب ہم بھی اپنے نمائندے حکومت میں بھیجیں گے چنانچہ کسی جگہ با قاعدہ انتخاب کے ذریعہ اور کسی جگہ لڑ جھگڑ کر مزدوروں کے نمائندے بھی کھڑے ہونے شروع ہو گئے۔آجکل سوشلزم کا بڑا زور ہے اور یہ دراصل اسی تحریک کا نام ہے جس میں مزدوروں کو مالداروں کے مقابلہ میں زیادہ حقوق دلائے جاتے ہیں۔ایسے لوگ عام پبلک کے حقوق کی حفاظت کے لئے گورنمنٹ کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح مزدوروں کی حق رسی ہو جائے گی۔انٹر نیشنل سوشلزم پھر اس سے بھی ترقی کر کے لوگوں نے کہا کہ بے شک یہ سب تحریکیں فائدہ مند ہیں مگر آخر ان کا اثر بعض خاص مما لک تک محدود ہے اور یہ کوئی کامل خوشی کی بات نہیں ہو سکتی۔اگر انگلستان کے لوگوں کی ہم نے اصلاح کر لی مگر فرانس کے لوگ پھر بھی بُھو کے مرتے رہے تو ہمارے لئے کیا خوشی ہو سکتی ہے اس لئے مختلف ملکوں کے غرباء اور مزدوروں کو باہمی تعاون کا اقرار کرنا چاہئے۔بظاہر تو یہ کہا جاتا تھا کہ ہم اصلاح کے دائرہ کو وسیع کرتے ہیں مگر اصل بات یہ تھی کہ جب اس تحریک کے نتیجہ میں ایک ملک کے اُمراء کو نقصان پہنچا تو دوسرے ملک کے اُمراء اس وجہ سے کہ یہ تحریک ہمارے ملک میں نہ آجائے روپیہ سے اس تحریک کے مخالفوں کی مدد کیا کرتے تھے۔چنانچہ اس کے مقابل پر مزدوروں نے بھی فیصلہ کیا کہ مختلف ملکوں کے غرباء کو آپس میں تعاون کا اقرار کرنا چاہئے جب تک ایسا نہیں ہوگا کامیابی مشکل ہے۔اس طرح سوشلزم کے بعد انٹر نیشنل سوشلزم کا آغاز ہوا۔یعنی مزدور اپنی اپنی جگہ کی ہی خبر نہ رکھیں بلکہ دوسری جگہوں کی بھی خبر رکھیں۔