انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 464

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور حالانکہ چاہئے تھا کہ اگر پریذیڈنٹ بیمار ہے اور اُسے علیحدہ بھی کرنا مناسب نہیں سمجھتے تو بیشک علیحدہ نہ کرو مگر ایک نائب بنا دو۔سیکرٹری کو بے شک نہ ہٹاؤ مگر ایک نائب سیکرٹری بناد و تا اُس کی وفات تک دوسرا آدمی تیار ہو سکے اور پرانوں کی جگہ لینے والے نئے آدمی تیار ہوتے رہیں ورنہ کام کو سخت نقصان پہنچے گا۔پرانے آدمیوں کے فوت ہو جانے پر اگر کوئی کام سنبھالنے والے نہ ہوں تو سخت نقصان کی بات ہے۔ایک جماعت کے دوست مجھ سے ملنے آئے اور مصافحہ کرنے کے بعد چینیں مار کر رونے لگے کہ ہمارے ہاں پہلے جماعت کے تیس چالیس افراد تھے مگراب صرف تین چار رہ گئے ہیں۔ان تحریکوں سے میرا مقصد یہ بھی ہے کہ ہر جماعت میں ذمہ داری کو سنبھالنے والے تین تین، چار چار کا رکن موجود رہیں۔خدام الاحمدیہ کے سیکرٹری کو کام کی ٹرینینگ علیحدہ ملتی رہے اور انصار اللہ کے سیکرٹری کو علیحدہ اور جہاں کہیں کوئی پُرانا کا رکن فوت ہو جائے اُس کی جگہ لینے والا موجود ہو۔رقابت بھی بعض اوقات بڑا کام کراتی ہے پچھلے دنوں یہاں خدام الاحمدیہ کا جلسہ ہوا تو مجھے معلوم ہوا کہ انصار نے کہا کہ ہمیں بھی اپنا جلسہ کرنا چاہئے بے شک اگر وہ بھی کرنے لگیں تو یہ بہت فائدہ کی بات ہے ہم نے جو مدد خدام کی کی ہے ان کی بھی کر سکتے ہیں۔پھر وہ خود بھی چندہ لے سکتے ہیں۔بہر حال انہیں بھی تنظیم کے ساتھ کام کرنا چاہئے میرا مقصد یہ ہے کہ جماعت کے اطفال، خدام اور انصار سب کی تربیت کا انتظام ہو سکے۔۱۴ سال سے کم عمر کے بچے اطفال کی مجالس میں شامل ہوں۔۱۴ سال سے چالیس سال تک کے خدام میں اور اس سے اوپر عمر کے انصار اللہ میں تاکہ سب کی صحیح تربیت ہو سکے۔میں اس جگہ افسوس کے ساتھ اس امر کا بھی ذکر کر دینا چاہتا خدام الاحمدیہ کے متعلق بعض ہوں کہ بعض مقامی حکام خدام الاحمدیہ کے خلاف بدگمانی پھیلا رہے ہیں۔یہ افسر ایسے ہی ہیں کہ جو بجائے بغاوت کو سرکاری افسروں کی بیجا بدگمانی دبانے کے وفاداروں کو باغی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔خدام الاحمدیہ کی تحریک کوئی خُفیہ تحریک نہیں۔میں نے اسے عَلَی الْإِعْلان قائم کیا اور جمعہ کے خطبوں میں اس کی وضاحت کی اور اس کی اہمیت بیان کی ، اس کا آئین میں نے بنایا، اس کا سیاسیات سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ تو صرف جماعت کے نوجوانوں کی اصلاح کے لئے ہے اس کے متعلق ایسی جستجو کرنا محض روپیہ ضائع کرنے والی بات ہے۔اگر حکومت کی طرف سے کوئی ایسا