انوارالعلوم (جلد 16) — Page 455
انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور کے لئے محفوظ رکھیں اور خدا تعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ قحط بھی عین اسی وقت شروع ہوا۔میں نے کہا تھا کہ جن لوگوں کو یہ گندم مہیا کی گئی ہے وہ اسے دسمبر میں کھانا شروع کریں اور قحط بھی دسمبر میں ہی شروع ہوا ہے یہ بھی نظام کی ایک ایسی خوبی ظاہر ہوئی ہے کہ ساری دنیا میں اس کی مثال نہیں مل سکتی کہ ہر غریب کے گھر میں پانچ ماہ کا غلہ جمع کر دیا گیا۔میں نے یہ ہدایت کی تھی کہ دسمبر سے پہلے اس کا استعمال شروع نہ کیا جائے میرا ارادہ ہے کہ جنوری کے بعد ایسے لوگوں کے گھروں میں آدمی بھجوا کر یہ معلوم کراؤ نگا کہ انہوں نے وہ پہلے ہی تو نہیں کھا لیا اور جنہوں نے اس ہدایت کی تعمیل میں بے احتیاطی کی ہوگی اُن کو اگر پھر دوبارہ خدا تعالیٰ نے اس کی توفیق دی تو امداد دیتے وقت اُن لوگوں سے مؤخر رکھا جائے گا جنہوں نے اس ہدایت کی پابندی کی ہے یہ تو میں نہیں کہتا کہ صرف انہی کو دوبارہ امداد دی جائے گی جنہوں نے غلہ کو مقررہ وقت سے پہلے نہیں چھیڑا لیکن دوبارہ امداد کے وقت ہدایت کی پابندی کرنے والوں کو مقدم ضرور کیا جائے گا۔موجودہ حالت یہ ہے کہ غلہ ملک میں کافی موجود ہے مگر ملتا نہیں۔مجھے ایک واقف کار نے بتایا کہ گورداسپور میں ہی کئی لاکھ من غلہ موجود ہے مگر جب لوگ افسروں کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کا گلا گھونٹ دیں جن کے پاس غلہ ہے؟ مگر سوال یہ ہے کہ اگر افسروں نے گلا گھونٹنے سے ڈرنا تھا تو پہلے ہی کیوں نہ اعلان کر دیا کہ لوگ اپنی اپنی ضروریات کے مطابق غلہ جمع کر لیں اس صورت میں تو حکومت کو چاہئے تھا کہ غلہ زمیندار کے پاس ہی رہنے دیتی۔زمیندار کی مثال تو چھلنی کی ہے وہ زیادہ دیر تک غلہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا اگر اس کے پاس ہوتا تو وقت پر ضرور مل سکتا۔مگر پیسے تو دفن کر لیتے ہیں کہ جب قحط ہوگا نکال لیں گے۔اس وقت اگر زمیندار کے پاس غلہ ہوتا تو وہ ضرور فروخت کر دیتا مگر اس کے قبضہ میں اس وقت ہے نہیں۔گورنمنٹ کی غلط پالیسی کی وجہ سے غلہ بنوں کے قبضہ میں جاچکا ہے اور وہ اب اسے نکالتے نہیں ہیں گورنمنٹ نے ان لوگوں کے قبضہ سے تو نکلوا دیا جن سے لوگوں کو مل سکتا تھا زمیندار تو غلہ فروخت کرنے پر مجبور بھی ہوتے ہیں انہوں نے سرکاری لگان ادا کرنا ہوتا ہے اس کے لئے بھی غلہ ہی فروخت کرتے ہیں اور ضروریات کی دوسری چیزیں خریدنے کے لئے بھی مگر جب ان کے پاس سے نکل کر بنیوں کے پاس جا پہنچا تو پھر ملنا مشکل ہے گورنمنٹ کا یہ اعلان عقل کے خلاف تھا۔اس نے ۵٫۴/۰ فی من نرخ مقرر کر دیا اور ساتھ کہہ دیا کہ اب ہم اس سے زیادہ نہ بڑھائیں گے لیکن یہ خیال نہیں کیا کہ یہ تو منڈی کی قیمت تھی اور یہی قیمت مقرر کر دینا تاجر کی حق تلفی تھی اس وجہ سے