انوارالعلوم (جلد 16) — Page 403
انوار العلوم جلد ۱۶ اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ہما را آکنده رویه بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هُوَ النَّاصِرُ ہمارا آئندہ رویہ ( تحریر فرموده اگست ۱۹۴۲ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: - اپنے تازہ خطبہ کے بعد دُعاؤں اور غور کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ کانگرس کی طرف سے جو ملک میں تعطل اور فساد پیدا کرنے کی دھمکی دی گئی ہے اس بارہ میں ہمارے لئے دو راستے کھلے ہیں اور ان میں سے کسی ایک کا اختیار کرنا حکومت کے رویہ پر منحصر ہے۔وہ دو راستے یہ ہیں۔اوّل۔کانگرس کی فساد انگیز جد و جہد کا مقابلہ کرنا۔دوم۔جماعتی طور پر اندرونی فساد کا مقابلہ کرنے میں حصہ نہ لینا اور صرف جنگ کے متعلق کوششوں میں حکومت کی مدد پر اکتفا کرنا۔در حقیقت امراؤل ہی ایک مکمل راستہ ہے لیکن اس بارہ میں ہمارا سابقہ تجربہ بتاتا ہے کہ: اول حکومت پہلے کانگرس سے جنگ شروع کرتی ہے اور وفادار جماعتوں کو اپنی مدد کے لئے بلاتی ہے۔پھر جب اپنے ہمسائیوں اور بسا اوقات اپنے عزیزوں سے لڑائی شروع ہو جاتی ہے گاندھی جی روزہ رکھ لیتے ہیں یا ایسی ہی کوئی اور حرکت ہو جاتی ہے جو دل کی تبدیلی پر دلالت نہیں کرتی بلکہ صرف ایک دھمکی ہوتی ہے۔حکومت اس سے ڈر کر کانگرس سے صلح کر لیتی ہے اور : (الف) وہ تعاون کرنے والی جماعتیں جو ایک غیر ملکی حکومت کی خاطر اپنے عزیزوں اور دوستوں سے لڑنے پر آمادہ ہو جاتی ہیں نہایت شرمندہ ہو جاتی ہیں اور مہینوں اور سالوں اُن کو دوسرے لوگوں کی طرف سے طعنے ملتے ہیں۔