انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 25

انوار العلوم جلد ۱۶ تک کو جی نہیں چاہتا۔سیر روحانی (۲) (۳) بنی نوع انسان کی ہدایت کا ذریعہ تیسری غرض اللہ تعالی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ هُدًى لِلْعَلَمِینَ یعنی مسجدیں لوگوں کے لئے ہدایت کا موجب ہوتی ہیں۔وہ اس طرح کہ وہاں دین کی تعلیم اور تبلیغ کا انتظام مثلاً خطبہ ہوتا ہے جس میں وعظ ونصیحت کی جاتی ہے، دینی اور اخلاقی باتیں بتائی جاتی ہیں اور لوگوں کو قربانیوں پر آمادہ کیا جاتا ہے۔اسی طرح تذکیر و تحمید سے کام لیا جاتا ہے، دینی و دنیوی اصلاحات کے متعلق مشورے ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی بہتری اور ان کی ترقی کی باتیں بیان کی جاتی ہیں۔اسی طرح مسجدوں میں قرآن کا درس ہوتا ہے ، حدیث کا درس ہوتا ہے، پھر نمازوں میں سے تین نمازیں بالخصوص ایسی ہیں جن میں تلاوت بالجبر کی جاتی ہے اور تلاوت بالجبر ایک قسم کا وعظ ہوتا ہے، کیونکہ قرآن کریم کی ہر آیت وعظ ہے اور جب بلند آواز سے اُس کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو لوگوں کے قلوب صاف ہوتے ہیں اور ان میں اللہ تعالیٰ کی خشیت اور محبت پیدا ہوتی ہے۔غرض مسجدیں هُدًى لِلْعَلَمِینَ کا کام دیتی ہیں وہاں لوگوں کی دینی تربیت ہوتی ہے، انہیں اعلیٰ روحانی باتیں بتائی جاتی ہیں اور اسلامی احکام دوسروں تک پہنچائے جاتے ہیں پس مسجد کی یہ تین اغراض اس آیت سے مستنبط ہوتی ہیں۔مساجد کی بعض اور اغراض اس کے بعد میں نے اور غور کیا تو مجھے قرآن کریم میں ایک اور آیت بھی نظر آئی جس میں مساجد کے بعض اور۔مقاصد بیان کئے گئے ہیں اور وہ آیت یہ ہے۔وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَ أَمْنًا وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْراهِمَ مُصَلَّى وَ عَهِدْنَا إِلى إبراهيمَ وَإِسْمَعِيلَ أَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَ الْعَكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ فرماتا ہے اُس وقت کو یاد کرو جب ہم نے اس گھر یعنی خانہ کعبہ کو لوگوں کے لئے مشابہ بنایا، یعنی تمام دنیا کے لئے نسل اور قومیت کے امتیاز کے بغیر اور ملک اور زبان کے امتیاز کے بغیر ہر ایک انسان کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں مَشَابَةٌ کے لغت میں یہ معنے لکھے ہیں کہ مُجْتَمَعُ النَّاسِ وَ مَاحَولَ الْبِثْرِ مِنَ الْحِجَارَةِ يعنى مَشَابَة کے معنے ہیں جمع ہونے کی جگہ۔اسی طرح مَشَابَة اُس منڈیر کو کہتے ہیں جو کنویں کے ارد گرد بنائی جاتی ہے اور جس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ جب زور کی ہوا چلے تو کوڑا کرکٹ اور گوبر اُڑ کر اندر نہ چلا جائے، یا کوئی اور گندی چیز کنویں