انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 368

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) جنت میں ایسا انتظام کر دیا جائے گا کہ کسی جنتی پر کوئی حملہ نہیں ہو سکے گا۔جس طرح ڈھال تمام حملوں کو روک دیتی ہے اسی طرح جب کسی شخص کو جنت ملتی ہے تو اس پر کوئی شخص حملہ نہیں کر سکتا۔اسی طرح فرماتا ہے وَالْمَلَئِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمُ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ کہ ملائکہ اُن کے پاس ہر دروازہ سے آئیں گے اور کہیں گے اے مومنو! تم نے اپنے رب کے لئے بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھا ئیں اب تم کسی مصیبت میں نہیں ڈالے جاؤ گے، کیونکہ خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ تم پر کوئی خوف اور کوئی مصیبت نہیں آئے گی۔دیکھو! یہ انجام والا گھر کتنا اچھا اور کیسا آرام دہ ہے۔خدائی حفاظت کا ایک شاندار نمونہ دنیا میں بھی اس بات کی مثالیں ملتی ہی کہ اللہ تعالیٰ کے پاک بندے خدا تعالیٰ کی حفاظت میں رہتے ہیں اور دشمن اُن کو لاکھ نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے وہ ناکام و نامرادر ہتا ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی جنگ سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ دو پہر کے وقت آرام کرنے کے لئے ایک درخت کے نیچے سو گئے۔باقی لشکر بھی ادھر اُدھر متفرق ہو گیا۔اتنے میں ایک شخص جس کے بعض رشتہ دار مسلمانوں کے ہاتھوں لڑائی میں مارے گئے تھے بلکہ اس کا ایک بھائی بھی مر چکا تھا اور اُس نے قسم کھائی تھی کہ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کے بدلہ میں ضرور قتل کرونگا وہ وہاں آ پہنچا۔درخت سے آپ کی تلوار لٹک رہی تھی اُس نے تلوار کو اُتار لیا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جگا کر کہا بولو ! اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکتا ہے؟ سب صحابہؓ اُس وقت اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اُس وقت کوئی شخص نہیں تھا ، مگر ایسی حالت میں بھی آپ کے دل میں کوئی گھبراہٹ پیدا نہ ہوئی۔بلکہ آپ کو یقین تھا کہ جس خدا نے میری حفاظت کا وعدہ کیا ہوا ہے وہ آپ میری حفاظت کا سامان فرمائے گا چنانچہ جب اُس نے کہا کہ بولو! بتاؤ! اب تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُٹھنے کی کوشش نہیں کی اور نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی حرکت سے کوئی اضطراب ظاہر ہوا۔آپ نے لیٹے لیٹے نہایت اطمینان سے فرمایا اللہ میری حفاظت کریگا۔یہ سُننا تھا کہ اُس کے ہاتھ شل ہو گئے اور تلوار اُس کے ہاتھ سے گر گئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فوراً تلوار اُٹھالی اور فرمایا بتاؤ! اب تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ وہ ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا آپ بڑے