انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 367

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) ایک مسلمان غلام کا کفار سے معاہدہ یہ بھی اُن کی بادشاہی کی علامت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایک دفعہ مسلمانوں کی عیسائیوں سے جنگ ہو گئی۔رفتہ رفتہ عیسائی ایک قلعہ میں محصور ہو گئے اور مسلمانوں نے چاروں طرف سے اُسے گھیر لیا اور کئی دن تک اُس کا محاصرہ کئے رکھا۔ایک دن کیا دیکھتے ہیں کہ قلعہ کا دروازہ کھلا ہے اور سب عیسائی اطمینان سے ادھر ادھر پھر رہے ہیں مسلمان آگے بڑھے تو انہوں نے کہا ہماری تو تم سے صلح ہو چکی ہے۔مسلمانوں نے کہا ہمیں تو اس صلح کا کوئی علم نہیں۔انہوں نے کہا علم ہو یا نہ ہو ، فلاں آدمی جو تمہارا حبشی غلام ہے اُس کے دستخط اس صلح نامہ پر موجود ہیں۔کمانڈر انچیف کو بڑا غصہ آیا کہ ایک غلام کو پھسلا کر دستخط کر وا لئے گئے ہیں اور اس کا نام صلح نامہ رکھ لیا گیا ہے۔غلام سے پوچھا گیا کہ کیا بات ہوئی تھی ؟ اُس نے کہا، میں پانی لینے آیا تھا کہ یہ لوگ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اگر تم لوگ یہ یہ شرطیں مان لو تو اس میں کیا حرج ہے؟ میں نے کہا کوئی حرج نہیں۔انہوں نے کہا تو پھر لگاؤ انگوٹھا (یا جو بھی اُس زمانہ میں دستخط کا طریق تھا) اور اس طرح انہوں نے میری تصدیق کرالی آخر اسلامی کمانڈر انچیف نے کہا میں حضرت عمرؓ سے اس بارہ میں دریافت کروں گا اور وہاں سے جو جواب آئے گا اُس کے مطابق عمل کیا جائے گا چنانچہ حضرت عمرؓ کو یہ تمام واقعہ لکھا گیا آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ گو معاہدے کے لحاظ سے یہ طریق بالکل غلط ہے مگر میں نہیں چاہتا کہ لوگ یہ کہیں کہ دنیا میں کوئی ایسا مسلمان بھی ہے جس کی بات رڈ کر دی جاتی ہے اسلئے اس دفعہ بات مان لو آئندہ کے لئے اعلان کر دو کہ صلح نامہ صرف جنرل یا اُس کے مقرر کردہ نمائندہ کا مصدقہ تسلیم ہو گا۔اب گودہ ایک غلام تھا مگر اُس وقت اُس کی حیثیت ویسی ہی تسلیم کی گئی جیسے ایک بادشاہ کی ہوتی ہے۔سامان جنگ گیارہویں بات میں نے یہ دیکھی تھی کہ مینا بازار میں سامان جنگ ملتا ہے تلواریں ہوتی ہیں ، نیزے ہوتے ہیں، ڈھالیں ہوتی ہیں اسی طرح کا اور سامان جنگ ہوتا ہے پس میں نے کہا آؤ میں دیکھوں آیا یہ چیزیں بھی ہمارے مینا بازار میں ملتی ہیں یا نہیں؟ روحانی ڈھال جب میں نے غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اس مینا بازار میں ڈھالیں بھی ملتی ہیں۔چنانچہ لکھا ہے لَهُمْ دَارُ السَّلَامِ عِندَرَبِّهِمْ وَهُوَ وَلِيُّهُمُ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ ٤٨