انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iii of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page iii

انوار العلوم جلد ۱۶ تعارف که بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ تعارف کتب یہ انوار العلوم کی سولہویں جلد ہے جو سید نا حضرت فضل عمر خلیفتہ المسیح الثانی کی ۲۶ دسمبر ۱۹۴۰ء سے ۱۴ جنوری ۱۹۴۳ ء تک ۱۹ مختلف تقاریر و تحریرات پر مشتمل ہے۔(۱) افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۰ء یہ خطاب حضور انور نے مؤرخہ ۲۶ دسمبر ۱۹۴۰ء کے جلسہ سالانہ قادیان پر ارشاد فرمایا جس میں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ کی علمی و عملی لحاظ سے تشریح و تفسیر فرمائی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں:- آج اس بیابان میں جمع ہونے والے تمام لوگ ایسے ہی ہیں جو خدا تعالیٰ کی اس وحی کی صداقت کی ایک علامت ہیں۔لوگ کہتے ہیں مرزا صاحب کی صداقت اور سچائی کی کیا دلیل ہے؟ آج ہم انہیں ایک دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے فرمایا يَنصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمُ مِّنَ السَّمَاءِ - اُس وقت جب کہ آپ کا کوئی نام بھی نہ جانتا تھا خدا تعالیٰ نے آپ کو بتا یا کہ ہم ایسے لوگ پیدا کریں گے جو تمہاری مدد کریں گے۔آج ہم یہاں بیٹھے ہوئے ایک ایک آدمی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں یہ اس الہام کے پورا ہونے کا ثبوت ہے۔1