انوارالعلوم (جلد 16) — Page 267
بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ سب اونٹ بیگار میں پکڑ لئے جائیں اس لئے بھاگا جا رہا ہوں۔اُس نے کہا اونٹوں کے پکڑنے کا حکم ہے گیدڑوں کو پکڑنے کا تو نہیں اس لئے تم کیوں خواہ مخواہ بھاگے جاتے ہو۔اُس نے کہا کہ بادشاہوں کا مزاج نرالا ہوتا ہے کیا پتہ کہ گیدڑوں کو بھی پکڑ والیں۔ان شور مچانے والوں سے کوئی پوچھے کہ اگر آج کل گندم کا بھاؤ واقعی گر جائے تو یہ مصیبت تو ان کے لئے ہوگی جن کے پاس گندم کے ذخائر ہیں۔زمینداروں کے گھروں میں تو دانہ بھی نہیں انہیں کیا نقصان پہنچ سکتا ہے وہ تو فائدہ میں رہیں گے کہ سستے داموں غلہ لے کر کھا سکیں گے۔پس ان کی یہ مخالفت بے جا ہے۔حکومت نے جو قیمت مقرر کی ہے وہ تسلی بخش نہیں بھاؤ اس سے بھی کم چاہئے تھا اور غلہ نکلنے کے وقت تو تین روپے من مقرر ہونا چاہئے۔قحط کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ ہماری جماعت کوشش کرے کہ فصل زیادہ پیدا کی جائے اور پھر جو غلہ پیدا ہو اُس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ محفوظ رکھا جائے۔سورہ یوسف میں یہ نسخہ بتایا گیا ہے۔پس ہر شخص کوشش کرے کہ فصل زیادہ سے زیادہ اور عمدہ سے عمدہ ہو۔بیج بھی اعلیٰ درجہ کا استعمال کیا جائے اور پھر جو فصل ہو اس میں سے کچھ نہ کچھ حصہ ضرور محفوظ کر لیا جائے تا اگر خطرہ کے دن آئیں تو ہم نہ صرف اپنے بلکہ اپنے ہمسایوں کے لئے روٹی کا انتظام کر سکیں تھوڑے ہی دن ہوئے مجھے ایک احمدی عورت نے اپنا ایک خواب سنایا۔اس نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں اور کہتے ہیں کہ دو ہزار کا غلہ خرید لو۔اس میں بھی اسی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ ہماری جماعت کو کچھ نہ کچھ حصہ فصل کا محفوظ کرنا چاہئے۔میں نے دیکھا ہے مسلمان زمیندار زیادہ محنت نہیں کرتے۔شروع میں جب میں سیر کے لئے جایا کرتا تھا تو کھیتوں کو دیکھ کر بتا دیتا تھا کہ یہ کھیت مسلمان زمیندار کا ہے اور یہ سکھ کا۔سکھ زمیندار زیادہ محنت کرتے ہیں اور ان کی فصل بھی اچھی ہوتی ہے مگر مسلمان اتنی محنت نہیں کرتے اور اس لئے ان کی فصل بھی اچھی نہیں ہوتی۔فصل کوشش اور محنت سے اچھی ہو جاتی ہے اور ہمارے دوستوں کو اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔اب فصل ہوئی تو جا چکی ہے مگر پھر بھی اسے بروقت پانی وغیرہ دے کر اچھا کیا جا سکتا ہے۔پھر جو فصل تیار ہو اسے اچھی طرح سنبھالنا چاہئے۔سستی قیمت پر یونہی فروخت نہیں کر دینا چاہئے اور کچھ نہ کچھ ذخیرہ بھی رکھنا چاہئے۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی وقت ملک میں کچھ نہ کچھ فسادات ہوں ایسے موقع کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ایسے مواقع پر اقلیتوں کو زیادہ خطرہ ہوتا ہے اس لئے ایسے موقع پر دوستوں کو