انوارالعلوم (جلد 16) — Page 207
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔کہ جناب میاں صاحب اسے نہ ماننا کیوں کہتے ہیں۔“ اس جگہ مولوی صاحب نے اسی مغالطہ سے کام لیا ہے جس سے وہ ہمیشہ کام لیتے ہیں وہ میرے وہ الفاظ پیش کریں جن میں یہ لکھا ہو کہ مولوی صاحب کے زمانہ مسیح موعود علیہ السلام کے عقائد دربارہ نبوت اور اسی زمانہ کے میرے عقائد پر بحث ہو جائے اگر وہ میری یہ تجویز پیش نہ کر سکیں اور ہرگز پیش نہ کر سکیں گے تو وہ خدا تعالیٰ سے ڈریں کہ وہ جان بوجھ کر ایک غلط بات میری طرف منسوب کرتے ہیں۔ان کے الفاظ ” مگر اس شرط کے ساتھ بتاتے ہیں کہ سوائے اس حصہ کے جس سے پہلے شرط کا لفظ ہے میری تجویز انہوں نے بعینہ مان لی ہے۔مگر یہ درست نہیں۔میں نے تو صرف اس قدر کہا تھا کہ ان کے اس زمانہ کے عقائد اور میرے عقائد ا کٹھے شائع کر دیئے جائیں اور اس کے ساتھ دونوں کی طرف سے صرف یہ لکھ دیا جائے کہ ہم اب بھی ان عقائد پر قائم ہیں۔بحث کا ذکر میری تجویز میں نہیں بحث لوگ خود کر لیں گے اور آپ ہی ان تحریرات سے نتیجہ نکال لیں گے بحث کا سلسلہ تو لامتناہی ہے پھر اس بحث کے مطالب پر دوسری اور پھر تیسری بحث کی ضرورت ہوگی۔اگر مولوی صاحب کے وہ عقائد صحیح ہیں اور وہ ان پر اب بھی قائم ہیں تو ان کو شائع کر کے ان کی تصدیق سے وہ کیوں گھبراتے ہیں ؟ آخر دونوں پر یکساں ذمہ داری ہے۔پھر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ میرے عقائد پر بحث بے سود ہے کیونکہ میرے عقائد تو خود میری جماعت پر حجت نہیں۔مولوی صاحب کو یہاں غلطی لگی ہے۔ان کے عقائد بے شک غیر مبائعین پرخت نہیں مگر یہاں تو ان عقائد کے اظہار کا سوال ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں شائع ہوئے اور ایسے رسالہ میں شائع ہوئے جس کا مطالعہ حضور علیہ السلام فرماتے تھے اور اس میں خود مضمون لکھتے تھے پس یہ سوال نہیں کہ وہ مولوی صاحب کے عقائد تھے بلکہ سوال یہ ہے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ان کے اکابر صحابہ کی نظر سے گزرے اور انہوں نے ان کی تردید نہیں کی اور اس سے یہ اہم مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے کہ عقائد مولوی صاحب نے بدلے ہیں یا ہم نے بدلے ہیں۔پھر مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ کیوں میں اور میری جماعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔یہ مولوی صاحب کی خوش فہمی ہے جیسا کہ میں او پر لکھ آیا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشریح سے مولوی صاحب کو انکار ہے ہمیں انکار نہیں۔باقی رہا یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ نبی کے لفظ کو کاٹا ہوا تصور فرمائیں اور اس کی جگہ محدث