انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 185 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 185

انوار العلوم جلد ۱۶ دیا گیا۔کے اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔اوپر کے حوالہ میں نبی کی جگہ محدث کا لفظ رکھ کر اور دوسرے حوالہ سے ملا کر پڑھنے سے کیا یہ بات نہیں نکلتی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پہلے کوئی محدث اِس اُمت میں نہیں گزرا۔کیونکہ آپ کی تشریح کے مطابق بدر ۵/ مارچ ۱۹۰۸ ء کی ڈائری میں اگر نبی کی جگہ محدث کے الفاظ رکھ دیئے جائیں تو اس کے صرف یہی معنے نکلتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صرف اور صرف ایک محدث اس اُمت میں گزرے ہیں چلیے چھٹی ہوئی۔نبوت سے اس اُمت کو پہلے جواب مل چکا تھا اب تیرہ سو سال کے محدثین کو بھی جواب مل گیا ہے مگر مشکل یہ پیش آئے گی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر اِس اُمت میں محدث ہوئے تو عمر ضرور ان میں ہوگا اسے اگر عمر کو محدثیت سے جواب دیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات غلط ہوتی ہے۔اور اگر کم سے کم حضرت عمرؓ کو محدث تسلیم کر لیا جائے تو یا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بات کی تغلیط ہوتی ہے یا پھر حضرت عمرؓ کو نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ اِس اُمت سے جواب ملتا ہے۔کیونکہ اس تعریف کے رو سے اِس اُمت میں تو اور کوئی محدث گزرا نہیں اور ان سب مشکلات پر مزید یہ مشکل پیش آتی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :- اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں تحدیث کے 66 معنے کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب کے نہیں ہیں۔“ ۷۲ پس اگر نبی کی جگہ محدث کے الفاظ رکھ دیں تو یہ حوالہ اس حوالہ کو کاتا ہے اور اس کے خلاف فتویٰ دیتا ہے۔پھر جناب مولوی محمد علی صاحب فرماتے ہیں کہ :- دو مسیح موعود کو یہ بتا کر کہ آپ کا اصل مقام محدث ہے نبی نہیں اس غلطی کو دور کر دیا گیا۔مگر جو خود اس غلطی میں رہنا چاہیں انہیں کون نکال سکتا ہے۔“ میرا جواب یہ ہے کہ یہ سوال ایسا آسان نہیں کیونکہ اگر بقول آپ کے ازالہ اوہام میں اس غلطی کا ازالہ کر دیا گیا تھا تو پھر ایک غلطی کے ازالہ میں آپ نے یہ کیوں تحریر فرمایا۔اور یہ بھی یادر ہے کہ نبی کے معنے لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔پس جہاں یہ معنے صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے۔کیونکہ اگر