انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 169

اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ ہوئے افطاری کی بھی دعوت ساتھ کر دی۔شام کے وقت افطاری کے بعد نماز کا سوال ہوا تو جناب خواجہ صاحب نے مجھ سے کہا کہ نماز کا دو جگہ انتظام ہے ایک چھت پر اور ایک نیچے ، آپ کس جگہ نماز پڑھنا پسند کریں گے۔میں نے عرض کیا کہ آپ صاحب خانہ ہیں جہاں آپ فرمائیں گے ہم نماز پڑھ لیں گے۔اس پر ایک صاحب بولے کہ کیا نماز میں بھی تفرقہ ہوگا ؟ میں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو تیار ہوں۔اِس پر دوسرے صاحبان بھی آمادہ ہو گئے کہ نماز ایک ہی جگہ ہو اور میں نماز پڑھاؤں۔اس دعوۃ میں مغلیہ شاہی خاندان کے ایک معزز فرد بھی شامل تھے مجھے ان کا نام یاد نہیں رہا سب انہیں شہزادہ صاحب کہہ کے پکارتے تھے اس تجویز کوسن کر شاہزادہ صاحب ایک دوسرے صاحب کی طرف جھکے اور اُن کے کان میں کچھ کہا جس پر انہوں نے سر ہلا کر کہا کہ ہاں ہاں نما ز تو ایک ہی طرح کی ہے۔پھر وہ کھل کھلا کر ہنس پڑے اور فرمانے لگے کہ شاہزادہ صاحب مجھ سے دریافت فرماتے تھے کہ کیا یہ مغرب کی تین ہی رکعتیں پڑھیں گے اور مسلمانوں والی نماز ہی ہوگی اور میں نے انہیں تسلی دلائی ہے کہ نمازیں ایک ہی طرح کی ہیں ان میں کوئی فرق نہیں۔اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ اب تک بعض علماء کا غلط پروپیگنڈا لوگوں پر اثر انداز ہے۔اور وہ خیال کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی نمازوں سے احمدیوں کی نمازیں جُدا ہیں۔پس اس قسم کے غلط خیالات کو رد کرنے کے لئے ضروری تھا کہ نبی کی وہ تعریف جو لوگوں میں مروج تھی اس کے مطابق نبی ہونے سے انکار کیا جاتا اور یہ کام نہایت ضروری اور اہم تھا جسے باحسن وجوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پورا کیا۔غیر احمدیوں کے نزدیک نبی کی تعریف اب میں بتا تا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے یہ ثابت ہے کہ غیر احمدی لوگ نبی کی یہی تعریف سمجھتے تھے کہ وہ شریعتِ جدیدہ لائے یا سابق شریعت میں کچھ رڈ و بدل کرے یا یہ کہ دوسرے نبی کا متبع نہ ہو۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم میں تحریر فرماتے ہیں کہ :- دو بعض یہ کہتے ہیں کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ صحیح بخاری اور مسلم میں یہ لکھا ہے کہ آنے والا عیسی اسی اُمت میں سے ہوگا لیکن صحیح مسلم میں صریح لفظوں میں اس کا نام نبی اللہ رکھا ہے پھر کیونکر ہم مان لیں کہ وہ اسی اُمت میں ،، سے ہوگا۔“